Share this link via
Personality Websites!
جاتی ہے۔منقول ہے : ایک شخص کو اُس کی ماں نے آواز دی لیکن اُس نے جواب نہ دیااِس پر اُس کی ماں نے اسے بددُعا دی تو وہ گونگا ہو گیا۔([1])
ماں باپ کا تیسرا حق ہے: اُن پر خُوب خرچ کرنا۔
مثلاً اُن کے کھانے پینے کا بہترین انتظام کرنا *جوتے، کپڑے وغیرہ خرید کر دیتے رہنا *حسبِ استطاعت پھل وغیرہ پیش کرنا *بیمار ہوں تو اچھے ڈاکٹر سے چیک اپ کروانا، دوائیں وغیرہ مہیا کرنا *حَسْبِ توفیق اُنہیں جیب خرچ کے طور پر رقم پیش کرنا کہ یہ جہاں چاہیں خرچ فرمائیں۔ غرض؛ جتنا ہو سکے ان پر اپنا مال خرچ کرنا، ان کے حقوق میں شامِل ہے۔ روایات میں ہے: ایک شخص اپنے والِد کو خرچ پیش نہیں کرتاتھا، اس کے والِد نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا۔ اس پر آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم کی مبارَک آنکھوں میں آنسو آئے اور جلال کی کیفیت میں اس شخص سے فرمایا: اَنْتَ وَ مَالُکَ لِاَبِیْکَ تم خود اور تمہارا سارا مال تمہارے والِد ہی کا ہے۔([2])
یقیناً ہم دُنیا میں آئے ہی اِن کے ذریعے سے ہیں، آج جو کچھ ہیں، ماں باپ کی محنت کا ہی نتیجہ ہے، لہٰذا ہمارا جو کچھ ہے، اِس پر اِن کا حق ہے، لہٰذا چاہیے کہ جتنا ہو سکے، اِن پر خرچ کیا کریں۔
(4):والدین کی خواہشات کو پُورا کرنا بھی اُن کے حقوق میں سے ہے۔ مثلاً *اُن کے پسندیدہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami