Share this link via
Personality Websites!
کھا لے *بَول چال بند کریں تو وقفے وقفے سے، حکمتِ عملی کے ساتھ، چچا، تایا، ماموں وغیرہ کی حمایت لے کر اُنہیں منانے کی کوشش کرے، بےادبی بہر حال نہیں کرنی، ہر حال میں ان کے ساتھ بھلائی ، بھلائی اور بھلائی ہی سے پیش آنا ہے۔
(2):نفل عِبَادت سے زیادہ اہمیت دینا
والدین کا دوسرا حق ہے: ماں باپ کے حکم کو نفل عِبَادت سے زیادہ اہمیت دینا۔([1])
مثلاً *دِل کر رہا تھا کہ کل نفل روزہ رکھوں گا، ماں باپ نے منع کر دیا تو اِن کی بات مانی جائے گی *دِل چاہ رہا تھا کہ ابھی نوافِل پڑھوں گا، امی جان نے کہیں جانے، مثلاً بازار سے سَوْدا وغیرہ لانے کا فرما دیا، اب نفل بعد میں پڑھ لیں، پہلے ان کا حکم ماننا ہے۔
والدین کی پُکار پر تاخیر نہ کیجیے!
پیارے اسلامی بھائیو! والدین پُکاریں تو جواب دینے میں ہر گز تاخِیر نہیں کرنی چاہیے، بعض لوگ اِس میں سخت لاپرواہی سے کام لیتے ہیں، ماں آوازیں دے رہی ہے، یہ اپنے کام میں مگن ہیں یا موبائل (Mobile)میں کھوئے ہوئے ہیں، ماں کی پُکار کا جواب ہی نہیں دے رہے، بعض لوگ پہلی ایک 2پُکاریں تو سُنی اَن سُنی کر دیتے ہیں، جب ماں بیچاری خُوب چِلّا کر پُکارتی ہے، تب جواب دیتے ہیں، یہ سخت بےادبی والی بات ہے، جو لوگ والِدَین کی پکار پر خوامخواہ بے تَوَجُّہی (No Lift)کا مُظاہَرہ کر کے اُن کا دِل دُکھاتے ہیں وہ سخت گنہگار اور عذابِ نار کے حقدار ہیں ۔ ماں آخِر ماں ہوتی ہے، بسا اوقات غَلَط فہمی میں بھی اُس کے منہ سے بد دعا نکل جائے اور اگر قَبولیَّت کی گھڑی ہو تو اَوْلاد آزمائش میں پڑ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami