Share this link via
Personality Websites!
ہے،والِدَین اِسے بُلاتے ہیں تو آنا ہی ہوگا، خط (Message)لکھنا کافی نہیں ہے۔ یُوہیں والِدَین کو اِس کی خدمت کی حاجَت ہو تو آئے اور ان کی خدمت کرے۔([1])
یعنی دِین میں ماں باپ کا حکم ماننے کو اتنی اہمیت دی گئی ہے کہ اگر بیٹا پردیس میں بیٹھا ہے، ماں باپ نے آنے کا حکم دے دیا، اب ضروری ہے، آنا ہی پڑے گا۔
ہاں! شریعت کا حکم اور والدین کا حکم آمنے سامنے آجائیں، یعنی ایک دوسرے کے اُلٹ ہوں ، اس صُورت میں شریعت کی بات مانی جائے گی، ماں باپ کی نہیں مانی جائے گی، مثلاً والدین کہتے ہیں: *داڑھی مُنْڈا دو، یہ حکم شریعت کے خِلاف ہے، لہٰذا یہ حکم نہیں مانا جائے گا *یونہی اللہ نہ کرے والدین نماز سے منع کریں، فرض روزے رکھنے سے روکیں تو ایسی صُورت میں ماں باپ کی نہیں بلکہ شریعت کی بات مانی جائے گی۔
مگر یہ بات بھی یاد رکھیے! ماں باپ نے شریعت کے خِلاف حکم دے دیا تو *اب اُن سے لڑنا نہیں ہے *ان کے سامنے چیخنا چلانا نہیں ہے *ان کے ساتھ بات چیت ختم نہیں کرنا *ان سے روٹھ کر گھر سے بھاگنا نہیں ہے *کھانے پینے کی ہڑتال (Strike)کر کے ان کا دِل نہیں دکھانا بلکہ اس صُورت میں بھی اُن کے ساتھ بھلائی سے ہی پیش آنا ہے، مثلاً اَمّی جان کہتی ہیں: بیٹا! داڑھی منڈا دو! اب بیٹے نے اَدَب سے کہنا ہے: امی جان! آپ کا حکم سَر آنکھوں پر مگر میں داڑھی نہیں منڈوا سکتا، اس میں اللہ و رسول کی ناراضی ہے۔
*اب اس پر ماں باپ ڈانٹیں تو چُپ کر کے ڈانٹ سُن لے *ماریں تو چُپ چاپ مار
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami