Share this link via
Personality Websites!
عالی جاہ! کیا میرے لیے تَوْبَہ ہے؟ آپ نے فرمایا: کیا تمہاری ماں زِندہ ہے؟ کہا: نہیں، وہ تو وفات پا گئی ہیں۔ فرمایا: اچھا جاؤ! تَوْبَہ کرو، جتنا ہو سکے اللہ پاک کو راضِی کرنے کی کوشش کرو!
یہ سُن کر وہ شخص چلا گیا، لوگوں نےپوچھا: عالی جاہ! اس کے سوال کا جواب تو یہی تھا کہ وہ توبہ کرے، پھر آپ نے ماں کے مُتَعَلِّق کیوں پُوچھا؟ فرمایا: اس لیے کہ میری مَعْلُومات کے مُطَابِق اللہ پاک کو راضِی کرنے کا سب سے قریب ترین ذریعہ ماں کے ساتھ بھلائی کرنا ہے (لہٰذا اَگر اُس کی ماں زِندہ ہوتی تو میں کہتا: ماں کی خِدْمت کرو! اللہ پاک سارے گُنَاہ بخش دے گا)۔ ([1])
حقیقت تو یہی ہے کہ والدین کے حقوق کسی صُورت ادا نہیں ہو سکتے، بہر حال! عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: چند باتیں ہیں، بندہ ان پر عَمَل کر لے تو والدین کے ساتھ بھلائی کرنے والا کہلائے گا: ([2])
پہلا حق ہے: شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے والدین کی ہر بات ماننا ۔
یعنی والدین کی ہر بات ماننی ہے، جو وہ کہہ دیں، فورًا لبیک کہتے ہوئے اُن کے حکم پر عمل کر گزرنا ہے۔ ایسے بہت سارے کام ہیں کہ عام حالات میں جائِز کی حد تک ہیں مگر والدین کاحکم آجائے تو واجِب ہو جاتے ہیں۔ مثلاً *کھانا حلال ہے، مباح ہے، بندہ نہ کھائے تو بھی گُنَاہ نہیں، اگر ماں باپ کھانے کا حکم فرمائیں، اب کھانا واجِب ہو جائے گا، نہ کھایا تو گُناہ ہو گا([3]) *اسی طرح بہارِ شریعت میں ہے: یہ (یعنی بیٹا) پردیس(Abroad) میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami