Share this link via
Personality Websites!
اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! یہ ماں باپ کا اَدَب ہے۔ افسوس! آج کل تَو لوگ ماں باپ کو گالیاں تک نکال لیتے ہیں، اُن کے سامنے چیختے ہیں، سامنے کھڑے ہو کر بُڑ بُڑ کرتے رہتے ہیں، پیٹھ پیچھے ماں باپ ہی کی بُرائیاں کرتے، دوستوں کی بیٹھک میں ماں باپ کو جلّاد اور پتا نہیں کیا کیا کہہ کر غیبت کے گُنَاہ کماتے رہتے ہیں۔ اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ جیسے آج صدیوں بعد حضرت اِسْماعیل علیہ السَّلام کی پاکیزہ سیرت سے سبق لے کر ہم قربانیاں کرتے ہیں، لاکھوں لاکھ کے جانور خرید کر ذَبَح کرتے ہیں، ایسے ہی آپ علیہ السَّلام کی پاکیزہ سیرت سے ماں باپ کا اَدَب کرنا بھی سیکھئے! اور نیک و فرمانبردار بیٹے بن جائیے!
ایک مرتبہ ایک صحابی رَضِیَ اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں سُوال کیا: یا رسولَ اللہ ِ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! سب سے فضیلت والا عمل کونسا ہے؟ فرمایا: اَلصَّلَاۃُ عَلیٰ وَقْتِہَا یعنی نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ۔ پوچھا: ثُمَّ اَیُّ؟ اس کے بعد کونسا عمل زیادہ پسندیدہ ہے؟ فرمایا: ثُمَّ بِرُّ الْوَالِدَیْنِ اس کے بعد والدین کے ساتھ بھلائی کرنا سب سے پسندیدہ ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! والدین کے ساتھ نیکی اور بھلائی بہت ہی پسندیدہ عمل ہے۔ جس کے والدین زِندہ ہیں، یقین مانیے! اُس کے تَو وَارے نیارے ہیں، ایک شخص تھا، اُس سے کسی کا قتل ہو گیا۔ قتل بہت بڑا گُنَاہ ہے، قرآنِ کریم میں فرمایا گیا: جس نے ایک جان کو قتل کیا، اس نے گویا ساری انسانیت کو قتل کیا، اتنا سخت گُنَاہ ہے۔ اس شخص سے جب یہ گُنَاہ ہو گیا تو شرمندگی ہوئی، اب سوچے کہ توبہ کی راہ کیا ہو گی؟ چنانچہ مسئلہ پوچھنے کے لیے صحابئ رسول حضرت عبد اللہ بن عبّاس رَضِیَ اللہ عنہما کی خِدْمت میں حاضِر ہوا، سارا ماجَرا عرض کیا اور کہا:
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami