Share this link via
Personality Websites!
وقاص رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں، آپ نے جب کلمہ پڑھا تو بڑی مشکل پیش آئی، ویسے تو مکّہ پاک میں جو مسلمان ہوتا تھا، اِس پر تکلیفوں کے پہاڑ توڑے ہی جاتے تھے مگر حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہ عنہ کو ایک علیحدہ قسم کی مشکل پیش آئی، آپ کی والِدہ اُس وقت مسلمان نہیں ہوئی تھیں، انہوں نے حضرت سعد رَضِیَ اللہ عنہ سے کہا: اے سعد! تجھے یہ دِین چھوڑنا ہو گا،اگر تم یہ دِین نہیں چھوڑو گے تو میں کھانا پینا چھوڑ دوں گی اور بھوکی مَر جاؤں گی اور لوگ تجھے ماں کا قاتِل کہیں گے۔
اب دیکھیے! ایک طرف ماں ہے، دوسری طرف کوئی دُنیاوی خواہش نہیں ہے، بلکہ اِیْمان ہے۔ اِس حالت میں قرآنِ کریم نے آپ کو نصیحت کی، حکم ہوا؛
فَلَا تُطِعْهُمَا وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘- (پارہ:21، سورۂ لقمان:15)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:تو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے۔
یعنی اے سعد ( رَضِیَ اللہ عنہ )! ماں کی یہ ضِدْ تَو البتہ پُوری نہیں کی جا سکتی، ماں کی وجہ سے اِیْمان چھوڑ کر اللہ و رسول کی نافرمانی تَو ہر گز نہیں کرنی لیکن اِس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اَمِّی جان کو ڈانٹا جائے، اُن کے سامنے چیخا جائے، برتن اُٹھا اُٹھا کر پھینکے جائیں۔ بلکہ فرمایا:
وَ صَاحِبْهُمَا فِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا٘- (پارہ:21، سورۂ لقمان:15)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے۔
اگرچہ ایک طرف اِیْمان اور دوسری طرف ماں ہے، اِس حالت میں بھی اِیْمان بھی نہیں چھوڑنا، ماں کی بےادبی بھی نہیں کرنی، اُن کا ادب ہی بجا لاتے رہنا ہے۔ ([1])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami