Share this link via
Personality Websites!
مُسکُراہٹ پھیل گئی، اُنہوں نے آپ علیہ السَّلام کی رِسالت کی شہادت(یعنی گواہی) دی اوراُسی وقت انتِقال کرگئے۔ قصّاب واپس آیا تو ٹوکرے میں اپنے والدَین کوفوت شُدہ دیکھ کر مُعامَلہ سمجھ گیا اور آپ علیہ السَّلام کی دَسْت بَوسی کر کے عرض کی: آپ اللہ پاک کے نبی حضرتِ موسیٰ کلیمُ اللہ ( علیہ السَّلام ) مَعْلُوم ہوتے ہیں۔ فرمایا: تمہیں کیسے اندازہ ہوا؟عرض کی : میرے ماں باپ روزانہ گِڑ گِڑا کر دعا کیا کرتے تھے کہ اللہ پاک! ہمیں حضرت موسیٰ کلیمُ اللہ ( علیہ السَّلام ) کے جلووں میں موت نصیب کرنا۔ ان دونوں کے اِس طرح اچانک انتِقال کر جانےسے میں نے اندازہ لگایا کہ آپ ہی حضرتِ موسیٰ کلیمُ اللہ ( علیہ السَّلام )ہوں گے۔ قصّاب نے مزید عرض کی: میری ماں جب کھانا کھا لیتی، تو خوش ہو کر میرے لیے یُوں دُعا کیا کرتی تھی: یااللہ پاک! میرے بیٹے کو جنّت میں حضرت موسیٰ کلیمُ اللہ ( علیہ السَّلام ) کا ساتھی بنانا ۔ حضرت موسیٰ علیہ السَّلام نے فرمایا: مبارَک ہوکہ اللہ پاک نے تم کو میرا جنَّت کا ساتھی بنایا ہے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ! دیکھیے! ہونہار بیٹا (Worthy son)کس پیارے انداز سے اپنے ماں باپ کی خِدْمت کیا کرتا تھا، جیسے ماں باپ بچپن میں اپنے ہاتھوں سے بچے کو کھلاتے ہیں، یہ ہونہار بیٹا بھی اُسی انداز سے اپنے ہاتھوں سے ماں باپ کے مُنہ میں لقمے ڈالا کرتا تھا۔ اِس کمال اطاعت و خِدْمت کا اِنْعام بھی دیکھیے کیسا مِلا، جنّت میں حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کا پڑوس نصیب ہو گیا۔ اللہ پاک ہمیں بھی ماں باپ کی ایسی ہی خِدْمت کی توفیق نصیب فرمائے۔
حضرت اِسْماعیل علیہ السَّلام کی اطاعت گزاری
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت اِسْماعیل علیہ السَّلام کے واقعہ پر مزید غور فرمائیے! حضرت
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami