Share this link via
Personality Websites!
سے عاجزی کا بازو جھکا کر رکھ۔
امام فخر الدین رازی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ اِس حصۂ آیت کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: یہ حکم بیٹے کو دیا جا رہا ہے، معنیٰ یہ ہے: اپنے ماں باپ کی کفالت اِس شان کے ساتھ کرو جیسے انہوں نے تمہارے بچپن میں تمہاری کی تھی۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ!پتا چلا؛ جیسے ماں باپ ہمارے بچپن میں ہماری ضرورتوں کا اندازہ خُود لگاتے تھے بلکہ ہماری ضرورت کی چیزیں پیشگی ہی مہیا کر دیا کرتے تھے، اب جب ماں باپ بڑھاپے کو پہنچے ہوئے ہیں، ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم بھی اپنے ماں باپ کے کہے بغیر ان کی تمام حاجات و خواہشات پُوری کرنےکی بھرپُور کوشش کرتے رہا کریں۔
حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کا جنَّت کا ساتھی
حضرت موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السَّلام ایک بار اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض گزار ہوئے ۔ یاربِّ کریم!مجھے میرا جنّت کا ساتھی دکھا دے۔اللہ پاک نے فرمایا: فُلاں شہر میں جاؤ، وَہاں فُلاں قَصّاب تمہارا جنّت کا ساتھی ہے۔ چنانچِہ موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السَّلام وہاں اُس قصّاب کے پاس تشریف لے گئے، (واقفیت نہ ہونے کے باوُجُود مسافِر اور مہمان ہونے کے ناطے) اُس نے آپ علیہ السَّلام کی دعوت کی۔ جب کھانا کھانے بیٹھے تو اُس نے ایک بڑا سا ٹوکرا اپنے پاس رکھ لیا، اندر 2نِوالے ڈالتا اور ایک نِوالہ خود کھاتا۔ اِتنے میں کسی نے دروازے پر دستک(Knock) دی، قصّاب اُٹھ کر باہَر گیا۔ موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السَّلام نے اُس ٹوکرے میں دیکھا تو اس کے اندر بڑی عمر کے مرد وعورت تھے ۔ موسیٰ کلیمُ اللہ علیہ السَّلام پر نظر پڑتے ہی اُن کے ہونٹوں پر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami