Share this link via
Personality Websites!
بار بار دھو دھو کر پہنتے رہتے ہیں، بیٹوں کو خبر تک نہیں ہو پاتی *اَمِّی جان کا جوتا ٹوٹ گیا ہے، یہ بھی اَمِّی جان بتائیں گی تو ہی مَعْلُوم ہو گا، ورنہ خبر تک نہیں ہوتی۔ خطا تَو اپنی ہوتی ہے مگر آج کل کے بیٹے اُلٹا ماں باپ پر چِلّاتے ہیں: آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں...؟ آپ کو پیسوں کی ضرورت تھی تو مجھ سے مانگ کیوں نہ لیے...؟ آپ بیمار تھے تو مجھے اِطِّلاع کیوں نہیں دی...؟
ارے بھائی...! ذرا ٹھنڈے دِل سے سوچئے! جب ہم چھوٹے تھے، کیا سردیاں آنے سے پہلے ہمارے سردیوں کے کپڑے تیار نہیں ہو جاتے تھے؟ گرمی آنے سے پہلے ہمارے لیے گرمی کا سامان مہیا نہیں کر دیا جاتا تھا؟ وہ وقت جب ہمیں پتا بھی نہیں تھا کہ عِیْد کسے کہتے ہیں؟ اُس وقت بھی اَمِّی اَبُّو کے عید کے کپڑے بعد میں بنتے تھے، ہمارے پہلے بن جاتے تھے، اَمِّی اَبُّو نیا جوتا لیتے یا نہ لیتے، ہمارے لیے پہلے سے آجاتا تھا۔ کیا ہمیں اپنی ضروریات بتانی پڑتی تھیں؟ کیا ہم ہر چیز مانگ کر ہی لیتے تھے...؟ نہیں...!! ہمیں تَو اَمِّی اَبُّو خُود سمجھاتے تھے: بیٹا! سردیاں آ گئی ہیں، اب بند شُوز (Shoes)پہن کر رکھنے ہیں، ورنہ بیمار ہو جاؤ گے۔ گرمیاں آتی تھیں تو ہمیں سمجھاتے تھے: بیٹا! اب گرمیاں آ گئی ہیں، اِس میں یہ یہ احتیاط کرنی ہے۔
غرض؛ جب ہمیں خُود اپنی ضروریات کا عِلْم تک نہیں تھا، ہمارے ماں باپ ہماری ضرورتیں خُود سے، اپنی خواہشیں مار کر پُوری کر دیتے تھے، آج ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ماں باپ کی ضروریات کا ہمیں عِلْم تک نہیں ہو رہا...؟ آخِر کیوں...؟
قرآنِ کریم دیکھیے! ہمیں کیا حکم دے رہا ہے، ارشاد ہوتا ہے:
وَ اخْفِضْ لَهُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَةِ (پارہ:15، سورۂ بنی اسرائیل:24)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور ان کے لیے نرم دلی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami