Share this link via
Personality Websites!
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَاحَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَانُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف (ترجمہ: میں نے سُنَّت اعتکاف کی نِیَّت کی)
صحابئ رسول حضرت ابوسعید خدری رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: جو لوگ کسی مجلس (Gathering)میں بیٹھیں مگر رسولِ اکرم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر درود شریف نہ پڑھیں، وہ چاہے جنّت میں داخِل ہو بھی جائیں، تب بھی وہ مجلس اُن کے لیے حسرت کا سبب رہے گی۔ ([1])
نامِ حضرت پہ لاکھ بار درود بے عدد اور بے شمار درود
ہم کو پڑھنا خدا نصیب کرے دم بدم اور بار بار درود
جو محِبِّ نبی ہے اے کافیؔ! چاہیے اُس کو بار بار درود([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
حدیثِ پاک میں ہے:اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات اعمال کا دار و مدار نیّتوں پر ہے۔([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami