Share this link via
Personality Websites!
انہیں دُنیا بھر میں عام فرما دیجیے! چنانچہ نبیوں کے سلطان صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و سَلَّم نے ابراہیمی طریقوں کو زندہ فرمایا، دِلوں میں ان کی محبّت ڈالی اور یُوں ڈالی کہ آج صدیاں گزر جانے کے بعد بھی بچے بچے کے دِل میں سُنّتِ ابراہیمی کی محبّت موجود ہے ۔ یُوں حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کا ذِکْرِ خیر بلند سے بلند ہوتا جا رہا ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ اِحْسان والوں کی جزا ہے، چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السَّلام مُحْسِنْ ہیں، لہٰذا آپ کو ایسی بےمثال جزائیں عطا فرمائی گئی ہیں۔ ہمیں بھی دِین میں دَرْجۂ اِحْسان اپنانا چاہیے۔
اِحْسان دِین میں ایک دَرْجہ ہے۔ دِین پر عَمَل کرنے کے 3درجے ہوتے ہیں: (1):ایمان (2):اِسْلام (3):اِحْسان *دِل سے مان لینے کا نام اِیْمان ہے *اللہ و رسول پر یقین رکھنا *نماز فرض ہے، ہم نے دِل سے مان لیا *روزہ فرض ہے، ہم نے یقین رکھ لیا *قربانی شریعت کا حکم ہے، ہم نے مان لیا *زکوٰۃ اور حج دِین کے فرائِض ہیں، ہم نے مان لیا، یہ اِیْمان ہے *اس اِیْمان کے ساتھ ساتھ ہم نمازَیں پڑھنے بھی لگ جائیں *روزے رکھنے والے، زکوٰۃ دینے والے، حج ادا کرنے والے، قربانی دینے والے بن جائیں، یہ اِسْلام ہے۔ اس سے آگے ایک درجہ آتا ہے، وہ یہ کہ آدمی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ ساری عِبَادات اس شان سے کرے کہ اس کا مقصُود صِرْف و صِرْف اللہ پاک کی رضا ہو، اللہ پاک کی محبّت سے سرشار ہو کر کرے، اسے اِحْسان کہتے ہیں۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami