Share this link via
Personality Websites!
پاک نے فرمایا:
كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(۱۱۰) (پارہ:23، سورۂ صافات:110)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔
عزّت چاہیے، ساری کی ساری عزّت اللہ پاک کے پاس ہے، شہرت(Fame) چاہیے، شہرت دینا، اللہ پاک کا کام ہے، قبولیت چاہیے، رَبِّ کریم کے ہاں سے ملتی ہے۔ لہٰذا اَے ایمان والو! دیکھو! حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے اِخْلاص کے ساتھ نیکی کی ہم نے اُن کا چرچا کر دیا، تم بھی سراپا اِخْلاص بن جاؤ! دُنیا و آخرت کی سب بھلائیاں تمہاری جھولی میں ڈال دی جائیں گی کیونکہ ہم نیکوں کو، احسان والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔([1])
حضرت ابراہیم کو ملنے والا سب سے بڑا اِنعام
عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے بہت ساری قربانیاں دِیں *نَمْرُود کی آگ میں جانا قبول فرمایا *راہِ خُدا میں گھر بار چھوڑا *ہجرت کی *اپنے شہزادے اور زوجہ کو بیابان(غیر آباد جگہ) میں چھوڑ آئے *آخِر بیٹے کی قربانی تک کے لیے تیار ہو گئے، ان سب اطاعتوں، فرمانبرداریوں کا سب سے بڑا اِنْعام آپ کو یہ دیا گیا کہ اللہ پاک نے اپنی سب سے محبوب ہستی، حضرت مُحَمَّدِ مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم سے فرمایا:
ثُمَّ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ اَنِ اتَّبِـعْ مِلَّةَ اِبْرٰهِیْمَ حَنِیْفًاؕ- (پارہ:5، سورۂ نحل:123)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: پھر ہم نے آپ کی طرف وحی بھیجی کہ (آپ بھی) دینِ ابراہیم کی پیروی کریں جو ہر باطِل سے جُدا تھے۔
یعنی اے پیارے محبوب صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و سَلَّم! اِبراہیمی طَور طریقوں کو اپنائیے اور
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami