Share this link via
Personality Websites!
الْمُحْسِنِیْنَ(۱۱۰) (پارہ:23، سورۂ صافات:108-110)
صَدَقَ اللہ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور ہم نے بعد والوں میں اس کی تعریف باقی رکھی، ابراہیم پرسلام ہو، ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ رسول! اَلحمدُ لِلّٰہ! آج عِیْدکا مبارَک دِن ہے، یَوْمُ النَّحْر (یعنی قربانی کا دِن) ہے۔پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اِنَّ اَعْظَمَ الْاَيَّامِ عِنْدَ اللهِ يَوْمُ النَّحْرِ بیشک اللہ پاک کے ہاں بہت ہی عظمت والا دِن یَوْمُ النَّحْر (یعنی قربانی کا دِن) ہے۔([1])
عِیْدُ الاَضحیٰ کا سب سے پسندیدہ عمل
حدیث پاک کی مشہور کتابوں؛ تِرْمذِی و اِبْنِ ماجہ میں مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان حضرت عائشہ صِدِّیقہ، طَیِّبہ طَاہِرہ رَضِیَ اللہ عنہا سے روایت ہے، اللہ پاک کے آخری نبی ، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و سَلَّم نے فرمایا: یَوْمُ النَّحْر ( قُربانی کے دِن ) آدمی کے اَعْمال میں سے اللہ پاک کے ہاں سب سے پسندیدہ عَمَل ( قربانی کے جانور کا) خُون بہانا ہے۔ بےشک قربانی روزِ قیامت اپنے سینگوں، بالوں اور کُھروں کے ساتھ لائی جائے گی اور ( قربانی کے جانور کا ) خُون زمین پر گرنے سے پہلے اللہ پاک کے ہاں بلند مقام پر پہنچ جاتا ہے۔([2])
نشانی ہے وَفا کی اور اِک نِعمت ہے قُربانی
خُدا کے دوست اِبراہیم کی سُنّت ہے قُربانی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami