Share this link via
Personality Websites!
ایسی باتوں سے بچیے! شیطان وَسْوَسے ڈالے تو اس کے وَسْوَسَوں کو جھٹک دیجیے! اور آج کا دِن، پِھر اس کے صدقے آیندہ زِندگی نیکیوں میں گزارنے کی کوشش کرتے رہیے!
اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی، صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا:اَلَا وَاِنَّ هٰذِهِ الْاَيَّامَ اَيَّامُ اَكْلٍ وَّشُرْبٍ وَّذِكْرِ اللَّهِ سن لو! بے شک یہ (10 ذی الحج (یعنی عیدُ الَاَضْحیٰ کے پہلے دِن) سے لے کر 13 ذِی الحج تک کے 4 ) دن کھانے پینے اور ذِکْرُ اللہ کرنے کے دن ہیں۔([1])
مفتی احمد یار خان نعیمی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ اس حدیث پاک کی وضاحت میں فرماتے ہیں: مطلب یہ ہے کہ یہ دن بندوں کی مہمانی کے دن ہیں، جن میں اللہ پاک میزبان اور بندہ مہمان ہوتا ہے، اس لیے اِن دنوں میں روزہ رکھنا گویا اللہ پاک کی دعوت سے اِنْکَار کرنا ہے، لہٰذا اِن دنوں میں کھاؤ! پیو! اور خوب اللہ کا ذکر کرو!([2])
پتا چلا؛ آج کا دِن اور آیندہ مزید 3 دِن خصوصِیّت کے ساتھ ذِکْرُ اللہ کے اَیَّام ہیں، لہٰذا اِن دِنوں میں خُوب اللہ پاک کا ذِکْر کیجیے! اور نیکیاں کمانے میں مَصْرُوف رہیے!اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! شیطان سے حفاظت رہے گی۔
حدیثِ پاک میں ہے: جس طرح آکلہ (یعنی کینسر نما ایک زَخم) انسان کو تکلیف دیتا ہے، اللہ پاک کا ذِکْر شیطان کو ایسی ہی تکلیف میں مبتلا کر دیتا ہے۔([3])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami