Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! آخر میں ایک بات عرض کرنا چاہتا ہوں؛ آج یَوْمُ النَّحْر (یعنی ذُوْ الحج کا 10وَاں دِن) ہے اور 10 ذُوْ الحج کو حُجَّاجِ کرام مِنیٰ میں حاضِر ہوتے ہیں اور حج کا ایک اَہَم رُکْن رَمْیِ جَمَرات ادا کرتے ہیں۔ رَمْئ جَمَرات کیا ہے؟ شیطانوں کو کنکر مارنا۔
یہ بھی حضرت اِبْراہیم علیہ السَّلام کی سُنّتِ مبارَکہ ہے۔ آپ جب حضرت اِسْماعیل علیہ السَّلام کو ساتھ لے کر قربانی کے لیے تشریف لے جا رہے تھے، شیطان بدبخت وسوسہ ڈالنے کے لیے آیا، اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے اسے کنکر مارے تھے۔([1])
اسی سُنّتِ اِبْراہیمی کو باقی رکھا گیا، آج بھی حاجی انہی 3مقامات پر یادِ ابراہیم علیہ السَّلام میں شیطان کو کنکریاں مارتے ہیں۔
اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ جیسے آج کے دِن قربانی کرنا سُنّتِ ابراہیمی ہے، یونہی آج کے دِن شیطان کو مار بھگانا بھی سُنّتِ ابراہیمی ہے۔ لہٰذا آج کے دِن بطورِ خاص شیطان سے دُشمنی کیجیے! یہ بدنصیب وَسْوسے ڈالے گا *کپڑوں پر خُون لگ گیا ہے، لہٰذا نماز بعد میں پڑھ لینا *ابھی اتنا سارا گوشت بانٹنا ہے، نماز تو بعد میں پڑھی جائے گی *یونہی عیدِ قربان کے موقع پر غیبتوں اور اِلْزام تراشیوں کے بھی دروازے کھلتے ہیں ، مثلاً ؛ *ہمارے والا قصاب تَو سارا گوشت خراب کر گیا *کھال کو کٹ(Cut) لگا دئیے ہیں *بَس جی قصّابَوں سے بھی اللہ بچائے! عِیْد والے دِن بھی ڈنڈی لگانے سے باز نہیں آتے *دیکھ لو! ٹائم 8بجے کا دِیا تھا، 10 بج گئے، ابھی تک نہیں آیا *لالچ کرتے ہیں، آرڈر(Order) زیادہ پکڑ لیتے ہیں وغیرہ۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami