Share this link via
Personality Websites!
اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا: اِس کا کان چھوڑ دو! گردن کے قریب سے پکڑو! ([1])
مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہ عنہ نے ایک شخص کو دیکھا، وہ بکری کو ذَبْح کرنے کے لیے ٹانگ سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے لے جا رہا تھا، آپ نے فرمایا: تیرے لیے خرابی ہو! اسے موت کی طرف اچّھے انداز میں لے کر جا...! ([2])
(4): چُھری پہلے سے تیزکر لیجیے!
ذبیحہ(جانور) کو آرام پہنچانے کی ایک صُورت سرورِ عالَم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے یہ بیان فرمائی کہ لِيُحِدَّ اَحَدُكُمْ شَفْرَتَهٗ تمہیں چاہیے کہ چھری تیز کر لو! ([3])
عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: جانور بھی موت سے ڈرتے ہیں، اس لیے چاہیے کہ چھُری کو پہلے سے خُوب تیز کر لیا جائے، عین ذَبح کے وقت سے پہلے انہیں چھری نہ دِکھائی جائے اور جب ذَبح کرنے لگیں تو تیزی سے چھری چلا کر جلدی جلدی ذَبح کر دیا جائے۔([4])
رحمتِ دوجہاں، سلطانِ کون و مکاں صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ایک آدمی کے قریب سے گزرے، وہ بکری کو لِٹا کر، اس کی گردن پر پاؤں رکھ کر چھُری تیز کر رہا تھا ، بکری اُس کی طرف دیکھ رہی تھی، آپ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا: کیا تم پہلے ایسا نہیں کر سکتے تھے؟ کیا تم اسے کئی موتیں مارنا چاہتے ہو؟ اسے لٹانے سے پہلے اپنی چُھری تیز کیوں نہ کر لی؟([5])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami