Share this link via
Personality Websites!
میں ڈالنے والے اور نجات دینے والے اُمور ذکر کیے گئے ہوں ،ساتھ ہی ساتھ گناہوں اور نیک اَعمال کا بھی تَذْکِرہ ہو اور روزانہ اس کی مدد سے اپنا مُحاسَبہ کرے ،یعنی اپنے اَعمال کے متعلق غور وفکر کرے۔([1]) امیرِ اہلسنت دامَت بَرَکاتُہمُ العالِیہ نے ہماری آسانی اور نفس وشیطان کے دھوکے سے بچانے کے لیے سوالات کی صورت میں اسی طرز پر مختلف رسائل ترتیب دئیے ہیں تاکہ ہم اس کے ذریعے اپنا مُحاسَبہ کر سکیں ،ان رسائل کو نیک اعمال کا نام دیا گیا ہے ۔
مُحاسَبہ یعنی اپنے اَعمال کے مُتَعَلِّق غور وفکر کرنے کو جائزہ کہا جاتا ہے ۔
وضاحت: شیخِ طریقت ،امیر ِاہلسنت دامَت بَرَکاتُہمُ العالِیہ نے نیک بننے کا بہتریں نسخہ نیک اعمال کا رسالہ عطا فرمایا ہے ،دعوت اسلامی کے دینی ماحول میں اس رسالے کو پر کرتے ہوئے اپنے اعمال کے متعلق غور وفکر کرنا ،جائزہ کہلاتا ہے۔
اللہ پاک نے فرمایا:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ لْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍۚ- (پارہ:28الحشر:18)
تَرْجَمَۂ کنز ُالعرفان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر جان دیکھے کہ اس نے کل کے لیے آگے کیا بھیجا ہے۔
مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:جو دنیا میں اپنا حساب کرتا رہے گا، اس کے لیے آخرت کا حساب آسان ہوگا۔([2])
فرمانِ آخری نبی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا جائزہ لے اور موت کے بعد کام آنے والے اعمال بجا لائے ،عاجز (یعنی ب
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami