Share this link via
Personality Websites!
والے بہت ہیں مگر قیامت تک ان کو بچا کر ساتھ لے جانے والے بہت تھوڑے ہیں، اللہ پاک نے فرمایا: جو اِحْسان والے ہیں، یہ وہ خوش نصیب ہیں جن کی نیکیوں کی خاص حِفَاظت کی جاتی ہے، انہیں ضائع نہیں ہونے دیا جاتا۔
پیارے اسلامی بھائیو! یہ اِحْسان کے نِرالے فضائل ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم قربانی بھی کریں، نمازیں بھی پڑھیں، نیکیاں بھی کریں، اس کے ساتھ ساتھ اِحْسان بھی اپنائیں۔
ہر چیز میں اِحْسَان کا حکم دیا گیا ہے
حضرتِ شَدَّاد بن اَوْس رَضِیَ اللہ عنہ صحابئ رسول ہیں اور مشہور صحابئ رسول، شاعِرِ دربارِ رسالت حضرتِ حَسَّان بن ثابت رَضِیَ اللہ عنہ کے بھتیجے ہیں ،آپ فرماتے ہیں: اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا: اِنَّ اللَّهَ كَتَبَ الْاِحْسَانَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ بے شک اللہ پاک نے ہر چیز میں احسان کا حکم دیا ہے،مزید فرمایا: اِذَا ذَبَحْتُمْ فَاَحْسِنُوا الذِّبْحَ اور جب تم ذَبح کرو تو اس میں بھی اِحْسان اور بھلائی کو ملحوظ رکھو! وَ لْيُحِدَّ اَحَدُكُمْ شَفْرَتَهٗ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهٗ چاہیے کہ چھری تیز کر لو! اور اپنے ذبیحہ (یعنی جانور) کو راحت پہنچاؤ!([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ایک خوبصُورت حدیثِ پاک ہے، اس میں ہمارے پیارے آقا و مولا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے ابتداءً ایک اُصُول بیان فرمایا کہ بےشک اللہ پاک نے ہر چیز پر احسان کرنے کا حکم دیا ہے۔ لہٰذا کوئی بھی چیز ہو، انسان ہو، جانور ہو،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami