Share this link via
Personality Websites!
اللہ پاک کی خاص رحمتیں اِن کے قریب قریب رہتی ہیں۔
مزید فرمایا:
وَ سَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۸) (پارہ:1، سورۂ بقرہ:58)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور عنقریب ہم نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ عطا فرمائیں گے۔
یعنی نیک اعمال پر عام لوگوں کو جو اَجْر دیا جاتا ہے، فرمایا: جو احسان والے ہیں، انہیں ہم دوسروں کی نسبت بہت زیادہ اَجْر عطا فرماتے ہیں۔
*پارہ:2، سُورۂ بَقَرہ، آیت:195 میں فرمایا:
وَ اَحْسِنُوْاۚۛ-اِنَّ اللّٰهَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ(۱۹۵) (پارہ:2، سورۂ بقرہ:195)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اورنیکی کرو بیشک اللہ نیکی کرنے والوں سے محبت فرماتاہے۔
یعنی اے اِیْمان والو...!! اِحْسان اپناؤ! بیشک اِحْسان والے اللہ پاک کے مَحْبوب بندے ہیں۔
*مزید اِرْشاد ہوا:
فَاِنَّ اللّٰهَ لَا یُضِیْعُ اَجْرَ الْمُحْسِنِیْنَ(۹۰) (پارہ:13، سورۂ یوسف:90)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تو اللہ نیکوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
بہت سارے لوگ ہیں جن کی نیکیاں ضائِع بھی ہو جاتی ہیں؛ *کسی نے رِیاکاری کر لی، نیکیاں ضائِع ہو گئیں *کسی نے دوسروں کو تکلیف پہنچائی، نیکیاں ضائع ہو گئیں *غیبت کرنے سے نیکیاں ضائع ہوتی ہیں *حَسَد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھاتی ہے، غرض؛ نیکیاں ضائع ہو جانے کے بھی بہت اَسْباب ہیں، نیکیاں کرنے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami