Share this link via
Personality Websites!
کہ (کوئی بھی نیکی، کوئی بھی ) عِبَادت اِس شان سے کرو کہ گویا تم اللہ پاک کو دیکھ رہے ہو، یہ نہ ہو سکے تو اس یقین کے ساتھ کرو کہ اللہ پاک تمہیں دیکھ رہا ہے۔([1])
تَنْبِیْہُ الغَافِلِیْن میں ہے: ایک روز حضرت رابعہ بصریہ رحمۃُ اللہ علیہا مَصْرُوفِ نماز تھیں، سجدہ میں گئیں توچٹائی کا تنکا آپ کی آنکھ میں چلا گیا، مَاشَآءَاللہ! آپ رحمۃُ اللہ علیہا اس دِل جمعی کے ساتھ بارگاہِ اِلٰہی میں متوجہ تھیں کہ جب تک نماز میں رہیں تنکے کا احساس تک نہ ہوا۔([2])
نماز فرض ہے۔ یہ مان لیا، یہ ایمان ہے۔ نماز پڑھنے لگے، یہ اسلام ہے۔ اسی نماز کو یُوں تَوَجُّہ کے ساتھ خشوع و خضوع کے ساتھ ادا کرنا۔ یہ احسان ہے۔ یونہی دِین کی تمام تعلیمات کو اس اعلیٰ درجے کے ساتھ اپنانا ، ہر عبادت ایسی تَوَجُّہ اور دِل جمعی کے ساتھ کرنا احسان ہے۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
اِنَّ رَحْمَتَ اللّٰهِ قَرِیْبٌ مِّنَ الْمُحْسِنِیْنَ(۵۶) (پارہ:8، سورۂ اعراف:56)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: بیشک اللہ کی رحمت نیک لوگوں کے قریب ہے۔
یعنی اللہ پاک رحمٰن ہے، اُس کی رحمت سب ہی کو ملتی ہے مگر جو اِحْسان والے ہیں،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami