Share this link via
Personality Websites!
علیہ السَّلام کا ذِکْرِ خیر بلند سے بلند ہوتا جا رہا ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ اِحْسان والوں کی جزا ہے، چونکہ حضرت ابراہیم علیہ السَّلام مُحْسِنْ ہیں، لہٰذا آپ کو ایسی بےمثال جزائیں عطا فرمائی گئی ہیں۔ ہمیں بھی دِین میں دَرْجۂ اِحْسان اپنانا چاہیے۔
اِحْسان دِین میں ایک دَرْجہ ہے۔ دِین پر عَمَل کرنے کے 3درجے ہوتے ہیں: (1):ایمان (2):اِسْلام (3):اِحْسان *دِل سے مان لینے کا نام اِیْمان ہے *اللہ و رسول پر یقین رکھنا *نماز فرض ہے، ہم نے دِل سے مان لیا *روزہ فرض ہے، ہم نے یقین رکھ لیا *قربانی شریعت کا حکم ہے، ہم نے مان لیا *زکوٰۃ اور حج دِین کے فرائِض ہیں، ہم نے مان لیا، یہ اِیْمان ہے *اس اِیْمان کے ساتھ ساتھ ہم نمازَیں پڑھنے بھی لگ جائیں *روزے رکھنے والے، زکوٰۃ دینے والے، حج ادا کرنے والے، قربانی دینے والے بن جائیں، یہ اِسْلام ہے۔ اس سے آگے ایک درجہ آتا ہے، وہ یہ کہ آدمی نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ وغیرہ ساری عِبَادات اس شان سے کرے کہ اس کا مقصُود صِرْف و صِرْف اللہ پاک کی رضا ہو، اللہ پاک کی محبّت سے سرشار ہو کر کرے، اسے اِحْسان کہتے ہیں۔
حدیثِ پاک میں ہے: حضرت جبرائیل امین علیہ السَّلام نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: اَخْبِرْنی عَنِ الْاِحْسَانِ یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و سَلَّم! مجھے اِحْسان کے متعلق بتائیے! کہ احسان کیا ہے؟ فرمایا: اَنْ تَعْبُدَ اللہ کَاَنَّکَ تَرَاہٗ فَاِنْ لَّمْ تَکُنْ تَرَاہٗ فَاِنَّہٗ یَرَاکَ اِحْسان یہ ہے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami