Share this link via
Personality Websites!
مزید فرمایا:
وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ(۱۰۸) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ(۱۰۹) كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(۱۱۰)
(پارہ:23، سورۂ صافات:108-110)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور ہم نے بعد والوں میں اس کی تعریف باقی رکھی، ابراہیم پرسلام ہو، ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔
سُبْحٰنَ اللہ! یہ ہے وہ راز...!! بغیر کسی سوشل میڈیا(Social Media) کے، بغیر کیمروں کے، بغیر اخباری رپورٹرز کے حضرت ابراہیم علیہ السَّلام کو اتنی شہرت، دُنیا و آخرت میں اتنی عزّت، اتنی عظمت کیوں نصیب ہوئی، اللہ پاک نے فرمایا: اس لیے کیونکہ وہ مُحْسِنْ تھے اور ہم اِحْسان والوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔
آج ہمارے ہاں لوگ دوڑ لگاتے ہیں *شہرت کی دوڑ، عزّت اور واہ وا کی دوڑ...!! جانور خریدا، اب اس کی پوسٹیں فیس بک(Facebook) وغیرہ پر چڑھائی جاتی ہیں *قربانی کرتے وقت ویڈیو بنا کر اپلوڈ(Upload) کرتے ہیں *سٹیٹس(Status) لگتے ہیں *بعض تَو مشہور بھی ہو جاتے ہیں، لاکھوں لاکھ ویوز(Views) مِل جاتے ہیں مگر یہ شہرت، یہ واہ وا 2، 4دِن کی ہوتی ہے، لوگ پِھر بُھول جاتے ہیں بلکہ اُکْتا جاتے ہیں۔ اللہ پاک نے فرمایا:
كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(۱۱۰) (پارہ:23، سورۂ صافات:110)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: ہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں ۔
عزّت(Respect) چاہیے، ساری کی ساری عزّت اللہ پاک کے پاس ہے، شہرت(Fame) چاہیے، شہرت دینا، اللہ پاک کا کام ہے، قبولیت چاہیے، رَبِّ کریم کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami