Share this link via
Personality Websites!
نے اپنے شہزادے کے گلے پر چُھری رَکھ کر عظیمُ الشَّان قربانی پیش کی تھی۔
ذرا سوچنے کی بات ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السَّلام قربانی کر رہے تھے، تب وہاں پر کتنے لاکھ لوگ موجود تھے؟ کتنے کروڑ آنکھیں اُنہیں دیکھ رہی تھیں؟ وہاں کتنے کیمرے لگے ہوئے تھے؟ کتنے اَخْباری رپورٹر(Reporter) تھے؟ کتنے جنرلسٹ(Journalist) وہاں کھڑے ہو کر بریکنگ نیوز(Breaking News) دے رہے تھے؟ یقیناً وہاں کوئی بھی نہیں تھا، ایک بلند شان والے والِد، ایک اُن کے ہونہار شہزادے...!! بَس! اور وہاں کوئی بھی موجُود نہیں تھا۔
مگر کمال دیکھیے! وہ باپ بیٹا دُنیا سے الگ ہو کر بالکل تنہائی میں اللہ پاک کی اِطاعت میں مَصْرُوف تھے، رَبِّ کائنات نے بالکل تنہائی میں کی گئی، اِخْلاص سے بھرپُور اِس عبادت کا اتنا چرچا کر دیا کہ آج صدیاں گزر گئیں، ہمارا بچہ بچہ سُنّتِ ابراہیمی کے تذکرے کرتا ہے *گھروں میں بچے بکرا آنے کا انتظار کرتے ہیں *بکروں کو دیکھ کر خُوش ہوتے ہیں *ان کو پیار کرتے ہیں *گلیوں میں گھماتے ہیں *اور دُنیا کے کونے کونے میں سُنّتِ ابراہیمی کی ادائیگی ہوتی ہے۔
دُنیا و آخرت کی بھلائیاں پانے کا نسخہ
قرآنِ کریم میں ہے: جب حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے بیٹے کے گلے پر چُھری چلا لی، جو آپ کر سکتے تھے، کر گزرے مگر چھری نہ چلی، تب اللہ پاک نے فرمایا:
قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَاۚ- (پارہ:23، سورۂ صافات:105)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: بیشک تو نے خواب سچ کردکھایا۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami