Share this link via
Personality Websites!
لانے کے لیے جب جانور کے گلے پر چھری چلا رہا ہو، اُس وقت رحم دِلی کی وجہ سے اُس کی دھڑکن تیز ہو جائے، آنکھوں میں آنسو آجائیں، یُوں دِل میں رِقَّت اور رَحْم کی کیفیات رکھ کر جانور کو ذَبح کیا جائے۔ ایک مرتبہ ایک صحابی رَضِیَ اللہ عنہ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم ! میں بکری ذبح کرتا ہوں اور مجھے اس پر رحم آرہا ہوتا ہے، رحمتِ عالَم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم نے فرمایا: اگر تم بکری پر رحم کرتے ہو تو اللہ پاک تم پر رحم فرمائے گا۔([1])
آہ! افسوس! ہمارے ہاں معاملہ اُلٹ ہے، لوگ قربانی کے وقت جانور کا تماشا دیکھ رہے ہوتے ہیں، بعض نادان تو جانور کو تڑپتا دیکھ کر تالیاں بھی بجاتے ہیں بلکہ آج کل تو انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا(Social Media) کا دَور ہے، لوگ بیچارے جانور کی، اس کے تڑپنے کی ویڈیوز(Videos) بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہوتے ہیں، اللہ پاک ہمیں ہدایت نصیب فرمائے! یہ وقت تماشا دیکھنے کا نہیں بلکہ رَحم دِلی کے سبب آنسو بہانے کا ہے، اُس جانور کی خوش قسمتی کہ وہ اللہ پاک کے نام پر قربان ہو رہا ہے، اس کی خوش قسمتی پر رشک کرنے کا وقت ہے۔
(2):ایک کے سامنے دُوسرے کو ذَبح مت کیجیے!
پیارے اسلامی بھائیو! ذبیحہ(یعنی جس جانور کو ذبح کرنا ہو اس) کے ساتھ بھلائی کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ ایک جانور کے سامنے دوسرے جانور کو ذبح نہ کیا جائے۔ بالخصوص ماں کے سامنے اس کے بچے کو یا بچّے کے سامنے اُس کی ماں کو ہر گز ذَبح مت کیجیے!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami