Share this link via
Personality Websites!
رحمٰن اُن پر رحم فرماتا ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! مزید حدیثِ پاک میں ایک خاص قسم کے اِحْسان کا حکم دیا، فرمایا: اِذَا ذَبَحْتُمْ فَاَحْسِنُوْا الذِّبْحَ اور جب تم ذبح کرو تو اس میں بھی اِحْسان اور بھلائی کو ملحوظ رکھو! وَ لْيُحِدَّ اَحَدُكُمْ شَفْرَتَهٗ وَلْيُرِحْ ذَبِيحَتَهٗ چاہیے کہ چھری تیز کر لو! اور اپنے ذبیحہ (یعنی جانور) کو راحت پہنچاؤ!([2])
ذَبح کے وقت جانور پر رَحْم کیسے کرنا ہے؟ عُلَمائے کرام نے اس کی مختلف صُورتیں بیان فرمائی ہیں۔
(1):دِل میں رِقَّت رکھ کر ذَبح کیجیے!
امام شَعْرانی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: (ذَبح کے وقت جانور پر رَحْم کرنے کی ایک صُورت یہ ہے کہ جب) ہم جانور کو ذَبح کر رہے ہوں، اُس وقت بھی ہمارے دِل میں رِقّت موجود ہو۔([3])
یعنی اللہ پاک کے حکم پر عمل کرتے ہوئے ہم جانور کو ذبح تو کریں مگر اس کی صُورت یہ ہو کہ جب ہم جانور کے گلے پر چُھری چلا رہے ہوں، اس وقت بھی ہمارے دل میں رحم ہی ہو، اس وقت بھی ہمارے دل میں رِقّت ہی ہو،یُوں کہہ لیجیے! بندہ اللہ پاک کا حکم بجا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami