Share this link via
Personality Websites!
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَاحَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَانُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف (ترجمہ: میں نے سُنَّت اعتکاف کی نِیَّت کی)
ہمارے مالک و مختار آقا صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و َسَلَّم کا فرمان ہے:
كُلُّ كَلَامٍ لَا يُذْكَرُ اللهُ تَعَالىٰ فِيْهِ فَيُبْدَاُ بِهٖ وَبِالصَّلَاةِ عَلَيَّ فَهُوَ اَقْطَعُ مَمْحُوْقٌ مِّنْ كُلِّ بَرَكَةٍ
ترجمہ: ہروہ بات جو اللہ پاک کے ذکر اور مجھ پر درود بھیجے بغیر شروع کی گئی، وہ ہر بَرَکت سے محروم و خالی ہے۔([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
قَالَ اللہ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فِی الْقُرْآنِ الْکَرِیْم(اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے):
وَ تَرَكْنَا عَلَیْهِ فِی الْاٰخِرِیْنَۖ(۱۰۸) سَلٰمٌ عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَ(۱۰۹) كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ(۱۱۰)
(پارہ:23، سورۂ صافات:108-110)
صَدَقَ اللہ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور ہم نے بعد والوں میں اس کی تعریف باقی رکھی،
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami