Share this link via
Personality Websites!
لیے ہمیں چاہیے کہ اس مبارک شہر اور اس میں واقع بیتُ اللہ شریف کی محبت کو اپنے دل میں بڑھائیں، جب بُلاوا آجائے اور اس شہر میں جانا نصیب ہو تو اس کا خوب ادب واکرام کریں اور ہر طرح کی بے ادبی سے بچیں۔آیئے! خانۂ کعبہ کےچند آداب سنتے ہیں:
*ہمیں چاہیے کہ ہم کعبۃُ اللہ کی طرف پاؤں نہ پھیلائیں ،*اس کی طرف معاذَ اللہ تھوک نہ پھینکیں ،*اس کی طرف منہ کر کے کُلّی نہ کریں ،* اس کی طرف پیٹھ کرنے سے بچیں ، *کعبے کی بے حُرْمتی نہ کریں ،*اس کے بارے میں بُرے الفاظ زبان سے نہ نکالیں*الغرض اس کی ہر طرح کی بے ادبی سے بچیں،*اس سے خوب خوب محبت کریں۔ اگر ہم ان تما م باتوں پر عمل کرنے میں کامیاب ہوگئے تو اِنْ شَآءَاللہ ہمیں خوب خوب رحمتیں اور برکتیں نصیب ہوں گی۔اِنْ شَآءَ اللہ
پىارے اسلامى بھائىو!ابتدائے اسلام میں قبلہ بَیْتُ الْمَقْدِس تھا،چنانچہ مسلمان بَیْتُ الْمَقْدِس کی طرف رُخ کر کے نماز ادا کرتے تھے، پھر بعد میں قبلہ بیتُ اللہ شریف قرار پایا، اس کا پسِ منظر کیا ہے، آئیے!سنتے ہیں، چنانچہ
پارہ 2سورۃُ البقرہ کی آیت نمبر 144 میں ربِّ کعبہ نے ارشاد فرمایا:
قَدْ نَرٰى تَقَلُّبَ وَجْهِكَ فِی السَّمَآءِۚ- (پ۲،البقرۃ،۱۴۴)
ترجمۂ کنز العرفان:ہم تمہارے چہرے کا آسمان کی طرف باربار اُٹھنا دیکھ رہے ہیں
پیارے اسلامی بھائیو! جب حضورِ اقدس صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہ وَسَلَّمَ مدینے شریف
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami