Share this link via
Personality Websites!
مشہور مُحَدِّث حضرت علامہ شیخ عبد الحق مُحَدِّث دِہلوی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:عُلَما فرماتے ہیں:اللّٰہ پاک نے اپنی کتاب میں نبیِّ کریم صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کے علاوہ اور کسی نبی کی رسالت کی قَسم یاد نہ فرمائی اور سورۂ مبارَکہ ’’ لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱) وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِ ‘‘ اس میں رسولِ کریم صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کی انتہائی تعظیم و تکریم کا بیان ہے کیونکہاللّٰہ پاک نے قسم کو اس شہر سے جس کا نام ’’بلد ِحرام“اور ’’بلد ِامین‘‘ ہے ،مُقَیَّد فرمایا ہے اور جب سے حضورِ اکرم صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم اس مبارک شہر میں تشریف لائے تب سے اللّٰہ پاک کے نزدیک وہ شہر مُعَزَّز و مُکَرَّم ہو گیا اور اسی مقام سے یہ مثال مشہور ہوئی کہ ’’شَرَفُ الْمَکَانِ بِالْمَکِیْنِ‘‘ یعنی مکان کی بزرگی اس میں رہنے والے سے ہے۔
مزید فرماتے ہیں :اللہ کریم کا اپنی ذات و صفات کے علاوہ کسی اور چیز کی قسم یاد فرمانا اس چیز کا شرف اور فضیلت ظاہر کرنے کے لئے اور دیگرچیزوں کے مقابلے میں اس چیز کو ممتاز(مشہور) کرنے کے لئے ہے جو لوگوں کے درمیان موجود ہے تاکہ لوگ جان سکیں کہ یہ چیز انتہائی عظمت و شرافت والی ہے۔
( مدارج النبوہ، باب سوم دربیان فضل وشرافت، ۱/۶۵ )(صراط الجنان ،۱۰/۶۷۹)
پیارے اسلامی بھائیو!*یہی وہ شہر ہے جہاں کی گلیوں نے رسولِ کریم صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کے مبارک قدموں کے بوسے لئے ہیں ۔*جہاں کی ہواؤں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی مقدس سانسوں کو چُوما ہے۔*جہاں کے گلی کُوچوں میں آپ عَلَیْہِ السَّلَام کے پسینۂ خوشبودار کی خوشبوئیں پھیلی ہیں۔*جہاں کے خوش نصیب درختوں اور پتھروں نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام کی زیارت کی ہے۔ * جہاں آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنے مبارک بچپن اور جوانی کے خوبصورت لمحات گزارے ہیں۔ * جہاں آپ عَلَیْہِ السَّلَام نےاعلانِ نبوت فرمایا ہے۔*جہاں سے آپ عَلَیْہِ السَّلَام نے تبلیغِ اسلام کا آغاز فرمایا ہے۔ اس
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami