Share this link via
Personality Websites!
(11)…لوگوں کے دل کعبۂ مُعَظَّمَہ کی طرف کھنچتے ہیں اور اس کی طرف نظر کرنے سے آنسو جاری ہوتے ہیں۔
(12)…ہر شب ِجمعہ( جمعہ اورجمعرات درمیانی رات) کو ارواحِ اَولیا ء(اولیائے کرام رَحْمَۃُ اللّٰہ ِعَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن کی مقدس روحیں) اس کے ارد گرد (آس پاس)حاضر ہوتی ہیں۔
(13)…جو کوئی اس کی بے حُرمتی و بے ادبی کا ارادہ کرتا ہے، برباد ہوجاتا ہے ۔
(صراط الجنان،۲/۱۵،۱۶ ملتقطاً)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! مکۂ مکرمہ اور کعبہ شریف کی اور بھی کئی خصوصیات ہیں،مثلاً مکے شریف کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ یہاں تاجدارِ مدینہ صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کی ولادت ہوئی،اللّٰہ پاک قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے :
لَاۤ اُقْسِمُ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۱) وَ اَنْتَ حِلٌّۢ بِهٰذَا الْبَلَدِۙ(۲) (پ۳۰،البلد:۱،۲)
ترجمۂ کنزالعرفان:مجھے اِس شہر کی قسم۔جبکہ تم اس شہر میں تشریف فرما ہو۔
تفسیر صِراطُ الْجِنَان میں لکھا ہے :گویا کہ ارشاد فرمایا:اے پیارے حبیب صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم!، مکۂ مُکَرَّمَہ کو یہ عظمت آپ کے وہاں تشریف فرما ہونے کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔
(تفسیرکبیر، البلد، تحت الآیۃ: ۲، ۱۱/۱۶۴)
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami