Share this link via
Personality Websites!
ایسا نِکل جائے گا جیسے اُس دن کہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا۔
(کنزالعمال،حرف الحاء،کتاب الحج والعمرۃ،الفصل الاول فی فضائل الحج، الجزء: ۵، ۳/۷، حدیث: ۱۱۸۳۷)
صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!آپ نے سُنا کہ ربّ کریم حاجیوں پر کتنا مہربان ہے اور ان پر کیسی کیسی نوازشیں فرماتا ہے، ان کے گناہوں کو معاف فرماتاہے ،انہیں مغفرت کے پروانے عطا فرماتا ہے، انہیں 400 مسلمانوں کی شفاعت کا اختیار عطا فرماتا ہے۔ اور جو حج کے ارادے سے نکلے اور فوت ہوجائے تو اس کے لئے قیامت تک حج کا ثواب لکھا جاتا ہے۔ یقیناًحج کی سعادت پانے والا ربِّ کریم کی رِضا حاصل کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔رحمتوں اور برکتوں کے سائے میں ہوتا ہے۔ اللہپاک کی امان میں ہوتا ہے۔اپنی نیکیوں میں خوب اضافہ کرواتا ہے۔شیطان کے دھوکے سے بچ جاتا ہے۔اپنے گناہوں کی بخشش کا سامان کرتا ہے۔گویارحمتِ الہٰی میں ڈُبکیاں لگاتا ہے۔کعبہ شریف کے نورانی نظاروں سے آنکھوں کو ٹھنڈا کرتا ہے۔قدم قدم پر نیک بندوں کی یادیں تازہ کرتا ہے۔ اللہ پاک کے نیک بندوں کے راستے پر چلتا ہے، اَلْغَرَض!حج کی سعادت پانے والا دنیا و آخرت کی کئی بھلائیوں کا حق دار ہو جاتا ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
اےعاشقانِ رسول!یوں تو حج میں بہت سے کام کئے جاتے ہیں، ان میں سے ایک طواف بھی ہے، حج کی سعادت پانے والا کعبۃُ اللہ شریف کے گردپروانہ وار چکر لگاتا ہے ،جسے طواف کہتے ہیں۔ طواف بھی ایک ایسی عبادت ہے جو دنیا بھر میں صرف مکہ مکرمہ میں کی جاتی ہے، آئیے! طوافِ خانۂ کعبہ کے فضائل پر مشتمل 2 فرامین مصطفےٰ صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم سنتے ہیں ،چنانچہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami