Share this link via
Personality Websites!
تشریف لائے تو انہیں بَیْتُ الْمَقْدِس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کا حکم دیا گیا اورنبیِّ کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اللہ پاک کے حکم کی پیروی کرتے ہوئے اسی طرف منہ کر کے نمازیں ادا کرنا شروع کر دیں۔ البتہ حضور پاک صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کےمبارک دِل کی خواہش یہ تھی کہ خانۂ کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ بنادیا جائے، اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ بَیْتُ الْمَقْدِس کو قبلہ بنایاجانا حضور ِاکرم صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کوناپسند تھا بلکہ اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ خانۂ کعبہ حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام اور ان کے علاوہ بہت سےانبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کاقبلہ تھا ، ایک وجہ یہ تھی کہ بَیْتُ الْمَقْدِس کی طرف منہ کر کےنماز پڑھنے کی وجہ سے کچھ غیر مسلم فخر و غرور میں مبتلا ہو گئے اور یوں کہنے لگے تھے کہ مسلمان ہمارے دین کی مخالفت کرتے ہیں لیکن نماز ہمارے قبلہ کی طرف منہ کر کے پڑھتے ہیں۔ چنانچہ ایک دن نماز کی حالت میں حضورِاقدس صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم اس امید میں باربار آسمان کی طرف دیکھ رہے تھے کہ قبلہ کی تبدیلی کا حکم آجائے، اس پر نماز کے دوران یہ آیتِ کریمہ نازل ہوئی جس میں حُضُورِ انور صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کی رِضا کو رِضائے الہٰی قرار دیتے ہوئے اور آپ صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کے چہرۂ انور کے حسین انداز کو قرآن میں بیان کرتے ہوئے آپ صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّمکی خواہش اور خوشی کے مطابق خانَۂ کعبہ کو قبلہ بنادیا گیا۔ چنانچہ آپ صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم نماز ہی میں خانہ کعبہ کی طرف پھر گئے، مسلمانوں نے بھی آپ صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کے ساتھ اسی طرف رُخ کیا اور ظہر کی 2 رکعتیں بَیْتُ الْمَقْدِس کی طرف ہوئیں اور 2 رکعتیں خانۂ کعبہ کی طرف منہ کر کے ادا کی گئیں۔
اےعاشقانِ رسول!اسی طرح قبلہ کی تبدیلی سے ایک بات یہ بھی معلوم ہوئی !اللہ پاک کو اپنے حبیب صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کی رضا بہت پسند ہے اور اللہ پاک اپنے حبیب صَلّی اللہ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم کی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami