Share this link via
Personality Websites!
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْن ط
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ط بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم ط
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا رَسُولَ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا حَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَ السَّلَامُ عَلَیْكَ یَا نَبِیَّ اللہ وَعَلٰی اٰلِكَ وَ اَصْحٰبِكَ یَا نُوْرَ اللہ
نَـوَیْتُ سُنَّتَ الاعْتِکَاف (ترجَمہ:میں نے سُنّتِ اعتکاف کی نیّت کی)
پیارے پیارے اسلامی بھائیو! جب کبھی داخلِ مسجدہوں،یادآنےپر اِعْتِکاف کی نِیَّت کرلیا کریں کہ جب تک مسجد میں رہیں گے اِعْتِکاف کا ثَواب مِلتا رہےگا ۔یاد رکھئے !مسجد میں کھانے،پینے، سونےیاسَحَری،اِفطاری کرنے،یہاں تک کہ آبِ زَم زَم یادَم کیاہواپانی پینے کی بھی شَرعاً اِجازت نہیں،اَلبتَّہ اگر اِعْتِکاف کی نِیَّت ہوگی تو یہ سب چیزیں جائز ہوں گی۔اِعْتِکاف کی نِیَّت بھی صِرف کھانے،پینےیا سونےکےلئےنہیں ہونی چاہئےبلکہ اِس کامقصداللہکریم کی رِضاہو۔” فتاویٰ شامی“میں ہے:اگرکوئی مسجد میں کھانا،پینا،سونا چاہےتو اِعْتِکاف کی نِیَّت کرلے،کچھ دیر ذِکْرُ اللہ کرے،پھر جو چاہے کرے(یعنی اب چاہے تو کھا ،پی یا سو سکتا ہے)
عَنْ اَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ صَلَّى عَلَيَّ عِنْدَ قَبْرِي وُكِّلَ بِهَا مَلَكٌ يَبْلُغُنِي، وَكُفِيَ بِهَا اَمْرَ دُنْيَاهُ وَآخِرَتِهِ، وَكُنْتُ لَهُ شَهِيدًا اَوْ شَفِیْعًا ۔
مشہور صحابئ رسول حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے: اللہ پاک کے آخری نبی،رسولِ ہاشمی، مکی مدنی، مُحَمَّدِ عربی صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جو میری قبر کے پاس مجھ پر سلام عَرْض کرے، اللہ پاک اُس پر ایک فرشتہ مقرر فرمائے گا ، جو مجھ تک اس کا سلام بھی پہنچائے گا اور اُس کی دنیا و آخرت کے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami