Share this link via
Personality Websites!
نکلی، لہٰذا) میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ پاک کے سچے رسول ہیں۔
صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے پُوچھا: مُعَاملہ کیا ہوا ہے؟ کہا: میں اس بہادر کے ساتھ ساتھ رہا، وہ جنگ میں بہادری سے لڑتا رہا، لڑتا رہا، آخر اسے زخم آئے، وہ اپنے زخموں کا دَرْد برداشت نہ کر سکا اور خُود کشی کر کے مر گیا۔
یہ سُن کر پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
اِنَّ الرَّجُلَ لَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ الْجَنَّةِ فِيمَا يَبْدُوْ لِلنَّاسِ وَاِنَّهُ مِنْ اَهْلِ النَّارِ. وَيَعْمَلُ بِعَمَلِ اَهْلِ النَّارِ، فِيمَا يَبْدُوْ لِلنَّاسِ، وَهُوَ مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ
ترجمہ: بعض دفعہ آدمی لوگوں کے خیال کے مطابق جنتیوں والے عمل کر رہا ہوتا ہے مگر وہ جہنمی ہوتا ہے اور بعض دفعہ لوگوں کے خیال کے مطابق جہنمیوں والے عمل کر رہا ہوتا ہے جبکہ وہ جنتّی ہوتا ہے۔([1])
جانتا ہے بارگاہِ حق کے آئین و اُصول؟
دِل کے ٹکڑوں کی یہاں پر نذر ہوتی ہے قبول
قربانی کو قبولیّت کے لائق بنانے کے طریقے
پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! لاکھ، 2لاکھ، 10 لاکھ کا جانور نہیں بلکہ وہ شخص (جو حقیقت میں مُنَافق تھا)، خُود میدانِ جنگ میں اُترا ہوا ہے، تلوار چلا رہا ہے، جان ہتھیلی پر رکھی ہوئی ہے اور غیر مسلموں کو گاجر مُولی کی طرح کاٹ رہا ہے، اس کے باوُجُود وہ جہنّم کا حقدار ہو گیا۔ سوچئے! ہماری معمولی سی قربانی کیوں رَدّ نہیں کی جا سکتی...!!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami