Share this link via
Personality Websites!
نہیں پہنچ پائے گا۔
پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے جب یہ سُنا تو فرمایا:
اِنَّهُ مِنْ اَهْلِ النَّارِ
ترجمہ: (لیکن) وہ تَو جہنمی ہے۔
اللہ اکبر! آپ اندازہ کیجیے! صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان جن کا ایک ایک لمحہ نیکیوں میں گزرتا تھا، سب ولیوں سے بڑے اَوْلیائے کرام جس کے عَمَل پر رشک کر رہے تھے، آپ سوچئے اس کا عمل کیسا ہو گا...؟ مگر افسوس! پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی زبانِ حق سے کیا ادا ہوا؟ فرمایا: وہ تَو جہنمی ہے۔
صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان تَو حیران رہ گئے، کہا:
اَيُّنَا مِنْ اَهْلِ الْجَنَّةِ اِنْ كَانَ هَذَا مِنْ اَهْلِ النَّارِ ؟
ترجمہ: یعنی یہ (راہِ خُدا میں اس طرح بہادری سے لڑنے والا) بھی اگر جہنمی ہے تو پِھر ہم میں سے جنّتی ہو کون سکتا ہے...؟
چونکہ زبانِ رسالت سے ادا ہو گیا تھا کہ یہ جہنمی ہے۔ صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کے اِیْمان کی تو مثال نہیں دی جا سکتی، چنانچہ ایک صحابی رَضِیَ اللہ عنہ نے سوچا کہ یہ شخص ہے تَو جہنمی مگر میں یہ تَو دیکھوں کہ یہ کرتا کیا ہے؟ چنانچہ وہ اس بہادُر کے پیچھے لگ گئے۔ وہ غیر مسلموں سے لڑائی کر رہا تھا، یہ چھپ کر اس کے پیچھے پیچھے تھے، ایک ایک قدم اس پر نگاہ رکھتے رہے، آخر جب وہ جان کی بازی ہار گیا تو دوڑتے ہوئے بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، عرض کیا:
اَشْهَدُ اَنَّكَ رَسُولُ اللهِ
ترجمہ: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم (آپ نے جو غیب کی خبر ارشاد فرمائی تھی، وہ بالکل سچ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami