Share this link via
Personality Websites!
کررہے ہیں کہ وہ اچھا کام کررہے ہیں۔
اللہ اکبر! وہ شخص جو سمجھتا رہا کہ میں تَو بڑی نیکیاں کر رہا ہوں؛ *مشقتیں بھی اُٹھاتا رہا *نمازیں بھی پڑھتا رہا *روزے بھی رکھتا رہا *حج بھی کرتا رہا *لاکھوں لاکھ خرچ کر کے *مہنگے سے مہنگے جانور خرید کر قربانیاں بھی کرتا رہا، اس کا گمان تھا کہ میرے پاس تو بہت نیکیاں جمع ہو چکی ہیں مگر جب میدانِ محشر میں پہنچے گا تَو مَعْلُوم ہو گا کہ یہ سب نیکیاں تَو برباد ہو گئیں *ان میں تَو دِکھلاوا بھی تھا *ان میں تَو شہرت کی طلب بھی تھی *ان میں تَو اپنی واہ وا کی خواہش بھی تھی، ان میں سے کوئی بھی نیکی اللہ پاک کی بارگاہ میں قبول نہ ہوئی، اب اسے شرمندگی ہو گی، اب یہ حسرت سے ہاتھ مَلتا رہ جائے گا۔ فرمایا: یہ ہے وہ شخص جو سب سے زیادہ نقصان میں ہے کہ عمل کر کے بھی بخشش سے محروم رہ گیا۔
پیارے اسلامی بھائیو! قبولیّت کی فِکْر بہت ضروری ہے۔ ورنہ جانور تَو کیا، اپنا گلا کٹوانا بھی اللہ پاک کی بارگاہ سے رَدّ ہو سکتا ہے۔ ایک دِلوں کو تڑپا دینے والا واقعہ سنیے! صحابئ رسول حضرت سہل بن سعد رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ کسی غزوے کا موقع تھا، غیر مسلموں کے ساتھ لڑائی چل رہی تھی۔ میں نے ایک شخص کو دیکھا، بہت بہادری کے ساتھ لڑ رہا تھا، جس غیر مُسْلِم کو دیکھتا اس پر جھپٹتا اور جہنّم پہنچا دیتا، اس کا جذبہ، بہادری، راہِ خُدا میں جان قربان کرنے کی لگن اور محنت دیکھ کر صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کو اس پر بہت رَشک آیا۔ کہنے لگے:
يَا رَسُوْلَ اللهِ! مَا اَجْزَاَ اَحَدُهُمْ مَا اَجْزَاَ فُلَانٌ
ترجمہ: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! آج جو اَجْر فُلاں بہادر کما لے گا، کوئی اس کے برابر
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami