Share this link via
Personality Websites!
ذَرَّہ برابر عمل قبول ہو گیا ہے تو یہ مجھے دُنیا اور جو کچھ دُنیا میں ہے، اس سب سے زیادہ محبوب ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! واقعی قبولِیّت بہت ضروری ہے، اگر ہماری ایک بھی نیکی قبول ہو گئی تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! اسی کے صدقے بخشش کا سامان ہو جائے گا۔ اگر قبول نہ ہوئی، ہماری نمازیں، ہمارے روزے، ہماری قربانیاں ہمارے مُنہ پر مار دی گئیں، رَدّ کر دِی گئیں تو یقین مانیے! روزِ قیامت انتہائی شرمندگی اُٹھانی پڑ جائے گی۔
اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
هَلْ نُنَبِّئُكُمْ بِالْاَخْسَرِیْنَ اَعْمَالًاؕ(۱۰۳) (پارہ:16، سورۂ کہف:103)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: تم فرماؤ: کیا ہم تمہیں بتا دیں کہ سب سے زیادہ ناقص عمل والے کون ہیں ؟
* جو نمازیں نہیں پڑھتا، وہ بھی نقصان میں ہے *جو روزے نہیں رکھتا، وہ بھی نقصان میں ہے *جو فرض ہونے کے باوُجُود حج نہیں کرتا، وہ بھی نقصان میں ہے *جو واجب قربانی ادا نہیں کرتا وہ بھی نقصان میں ہے مگر یہاں فرمایا گیا: کیا سب سے زیادہ نقصان میں جو ہو گا، اس کے متعلق خبر نہ دِی جائے...! یعنی کوئی ہے جو بےنمازی، روزے قضا کرنے والے، گنہگار سے بھی زیادہ نقصان میں ہے، وہ کون ہے؟ فرمایا:
اَلَّذِیْنَ ضَلَّ سَعْیُهُمْ فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا وَ هُمْ یَحْسَبُوْنَ اَنَّهُمْ یُحْسِنُوْنَ صُنْعًا(۱۰۴) (پارہ:16، سورۂ کہف:104)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: وہ لوگ جن کی ساری کوشش دنیا کی زندگی میں برباد ہو گئی حالانکہ وہ یہ گمان
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami