Share this link via
Personality Websites!
قرآنِ کریم میں یُوں بیان ہوا:
وَ اتْلُ عَلَیْهِمْ نَبَاَ ابْنَیْ اٰدَمَ بِالْحَقِّۘ-اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ اَحَدِهِمَا وَ لَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الْاٰخَرِؕ-قَالَ لَاَقْتُلَنَّكَؕ-قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ(۲۷) (پارہ:6، سورۂ مائدہ:27)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور (اے حبیب!) انہیں آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر پڑھ کر سناؤ جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی طرف سے قبول کرلی گئی اور دوسرے کی طرف سے قبول نہ کی گئی تو(وہ دوسرا) بولا: میں ضرور تجھے قتل کردوں گا، (پہلے نے) کہا : اللہ صرف ڈرنے والوں سے قبول فرماتا ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! اس واقعہ میں ہمارے لیے کئی سبق ہیں:
سب سے پہلے تَو یہ دیکھیے! ہمارے سامنے قربانی کرنے والے 2 شخص ہیں: (1):حضرت ہابیل اور (2):بدنصیب قابیل۔ لیکن قابیل کی قربانی قبول نہیں ہوئی۔ اس کی قربانی رَدّ کر دی گئی۔ پتا چلا؛ محض قربانی کر لینا کافِی نہیں ہے، اس کی قبولیّت کی فِکْر بھی بہت ضروری ہے۔ مسلمانوں کے چوتھے خلیفہ حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خُدا رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كُونُوا لِقُبُولِ الْعَمَلِ اَشَدَّ هَمًّا مِنْكُمْ بِالْعَمَلِ
ترجمہ: عمل کرنے سے زیادہ عمل قبول ہونے کی فِکْر کیا کرو...!!([1])
حضرت فُضَالہ بن عبید رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: اگر مجھے مَعْلُوم ہو جائے کہ میرا ایک
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami