Share this link via
Personality Websites!
پیارے اسلامی بھائیو! پارہ: 6، سورۂ مائِدَہ میں ہابِیل اور قابِیل کی قربانی کا ذِکْر ہوا ہے۔ یہ دونوں حضرت آدم علیہ السَّلام کے بیٹے تھے، قابِیْل پہلا بدنصیب ہے جس نے انسانوں کی تاریخ کا سب سے پہلا گُنَاہ کیا، یہی پہلا مُشْرِک بھی ہے، پہلا قاتِل بھی ہے۔
حضرت ہابِیل جو نیک انسان تھے، ان کا اور بدنصیب قابِیل کا کسی بات میں جھگڑا تھا۔ اس جھگڑے کا حل حضرت آدم علیہ السَّلام نے یہ نکالا کہ تم دونوں قربانی کرو! جس کی قربانی قبول ہو گئی، وہ درست ہو گا، جس کی قبول نہ ہوئی، وہ غلطی پر ہو گا۔
اس دَور میں دَسْتُور یہ تھا کہ جس کی قربانی قبول ہوتی، آسمان سے ایک آگ اُتَر کر اس کو کھا جاتی تھی، جو قبول نہ ہوتی، اسے چھوڑ دیتی تھی۔
چنانچہ حضرت ہابِیل اور بدنصیب قابِیل دونوں نے قربانی کی، حضرت ہابِیل نے اللہ پاک کی رضا پانے کے لیے بڑی خوش دِلی کے ساتھ ایک بکری ذَبْح کی اور قابِیل چونکہ بدباطِن تھا، اس کا دِل پہلے ہی سیاہ تھا، چنانچہ اس نے مَرے دِل سے کچھ گندُم راہِ خُدا میں دے دی۔
آسمان سے آگ اُتری، اس نے حضرت ہابیل کی قربانی کو کھا لیا مگر قابیل کی دِی ہوئی گندم کو یونہی چھوڑ دیا۔ یعنی حضرت ہابِیل کی قربانی قبول ہو گئی تھی۔ قابِیل جو پہلے ہی دُشمنی کی آگ میں جَل رہا تھا، یہ دیکھ کر اور بھی آگ بگولہ (یعنی غصّے میں لال پیلا) ہو گیا، اب تَو اس نے غُصّے میں آ کر حضرت ہابیل رحمۃُ اللہ علیہ کو قتل ہی کر ڈالا۔ یہ اس زمین پر سب سے پہلا قتل تھا، اس کے بعد قابِیل پہاڑوں پر چلا گیا اور شِرْک میں مبتلا ہو گیا۔([1]) یہ واقعہ
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami