Share this link via
Personality Websites!
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: جب دونوں نے ایک ایک قربانی پیش کی تو ان میں سے ایک کی طرف سے قبول کرلی گئی اور دوسرے کی طرف سے قبول نہ کی گئی، تو(وہ دوسرا) بولا: میں ضرور تجھے قتل کردوں گا۔ (پہلے نے) کہا : اللہ صرف ڈرنے والوں سے قبول فرماتا ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! اَلحمدُ لِلّٰہ! سُنّتِ ابراہیمی کی ادائیگی یعنی قربانی کے اَیّام بالکل قریب آ چکے ہیں، گلیوں اور گھروں سے جانوروں کی آوازیں، چہل پہل سُنائی دینے لگی ہے، بارَونق سماں ہے، جو خُوش نصیب قربانی کی سَعادت حاصِل کریں گے، اللہ پاک ان کی کوششیں قبول فرمائے اور جو بیچارے اس سال نہیں کر پا رہے، رَبِّ کریم انہیں بھی توفیق بخشے، طاقت دے، تاکہ وہ بھی قربانی کی سعادت پایا کریں۔
مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان سیدہ عائشہ صِدِّیقہ طیبہ طاہِرہ رَضِیَ اللہ عنہا سے روایت ہے، رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:
مَا عَمِلَ اِبْنُ آدَمَ يَوْمَ النَّحْرِ عَمَلًااَحَبَّ اِلَى اللهِ مِنْ هِرَاقَةِ دَمٍ
ترجمہ: یومِ نَحْر (یعنی قربانی کے دِن) اللہ پاک کے ہاں آدمی کا سب سے زیادہ پسندیدہ عمل خُون بہانا (یعنی قربانی کرنا) ہے۔
وَاِنَّهُ لَتَاْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُوْنِهَا وَاَظْلَافِهَا وَاَشْعَارِهَا
ترجمہ: بیشک روزِ قیامت قربانی کا جانور اپنے سینگوں، کُھروں اور بالوں سمیت آئے گی۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami