Share this link via
Personality Websites!
فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ- (پارہ:23، سورۂ صفت:102)
نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں ، اب تو دیکھ کہ تیری کیا رائے ہے۔
کتابوں میں لکھا ہے: جب حضرت ابراہیم علیہ السَّلام یہ فرما رہے تھے تو اس وقت شہزادے کا چہرہ جگمگانے لگا، جسم پر کپکپی طاری ہو گئی۔ حضرت ابراہیم علیہ السَّلام نے پُوچھا: بیٹا! کیا بات ہے؟ یہ چہرے پر چمک کیسی ہے؟ جسم پر کپکپی کیوں ہے؟ اب شہزادے کا ذرا جواب سنیے! آپ نے عرض کیا: اَبُّو جان! میں قُربان ہو جاؤں تو اپنے رَبّ کے حُضُور حاضِر ہو جاؤں گا، اِس فانِی دُنیا سے جُدا ہو کر جنّت میں پہنچ جاؤں گا، اللہ پاک نے میرے مُتَعَلِّق یہ حکم اسی لیے تو دِیا ہے کہ وہ رَبِّ کریم مجھ سے راضِی ہے، بےشک رَبّ کے ہاں جو نعمتیں تیار ہیں، وہ اِس دُنیا اور جو کچھ دُنیا میں ہے، اِس سب سے بہتر ہے (بس اسی خُوشی سے چہرہ چمک رہا تھا)۔([1])
عیدِ قرباں جذبۂ ایثار کا اِظْہار ہے
یہ اطاعت کا خلیلُ اللہ کی معیار ہے
ہے یہ تسلیم و رضا کی ایک لافانی مِثال
جان دینے کے لیے فَرزند بھی تیار ہے
باپ کا حُسْنِ عَمَل، بیٹے کا ذَوقِ اِتِّباع
اس مِثالی دَاستاں کا مرکزی کِردار ہے
پیارے اسلامی بھائیو! قُربانی مجبوری سے نہ کریں بلکہ دِل میں خُوشی ہو، دِل جُھوم رہا ہو، کاش! اللہ پاک کی محبّت دِل میں جَوش مار رہی ہو، دِل ہی دِل میں یہ جذبہ اُبھر رہا ہو کہ اللہ پاک نے حکم دیا تو میں جانور رَبّ کے نام پر قُربان کر رہا ہوں، اگر حکم ہو جاتا تو اپنی
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami