Share this link via
Personality Websites!
خرچ کرتے ہیں۔
پتا چلا؛ خُوش دِلی سے صدقہ و خیرات اور قربانی وغیرہ نہ کرنا بھی قبولِیّت کی راہ میں رُکاوٹ ہے۔
افسوس! ہمارے ہاں بعضوں کی کیفیت ایسی بنتی ہے کہ قُربانی کرنی تو نہیں تھی، چُونکہ مالِکِ نصاب تھا، قُربانی واجِب ہو گئی تھی، لہٰذا کرنی پڑی...!!
آج کے دَور میں یہ بھی ایک غنیمت ہے کہ چلو اللہ پاک کا حکم مان تَو لیا، مالِکِ نصاب ہو گئے تھے، قُربانی واجِب ہو گئی تھی تو اَلحمدُ لِلّٰہ! واجِب ادا تو کر رہے ہیں، یہ بھی بڑی بات ہے مگر ہمیں چاہیے کہ قُربانی کر رہے ہیں تو مجبورًا نہیں بلکہ خُوشی خُوشی کریں۔ جب قُربانی کر رہے ہوں تو دِل میں خُوشی ہونی چاہیے کہ اَلحمدُ لِلّٰہ! آج میں اپنے رَبّ کی رِضا کے لیے قربانی کر رہا ہوں۔
اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ علیہ وَآلہٖ و سَلَّم نے فرمایا: قُربانی کا خُون زمین پر گِرنے سے پہلے اللہ پاک کے ہاں قُبُول ہو جاتا ہے، فَطِیْبُوْا بِہَا نَفْسًا پس خُوش دِلی کے ساتھ قُربانی کیا کرو! ([1])
حضرت اِسْمَاعیل علیہ السَّلام کی ایک مبارک کیفیت
روایات میں آتا ہے، جب حضرت ابراہیم علیہ السَّلام اپنے شہزادے کو مِنٰی میں لے گئے، انہیں اپنا خواب سُنایا، ارشاد فرمایا:
یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اے میرے بیٹے! میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami