Share this link via
Personality Websites!
سُنے جو نماز کے لیے بُلاتا ہو، فَلاح و کامیابی کی دعوت دے رہا ہو اور وہ اس کی دعوت کو قبول نہ کرے۔ ([1])
آپ غور فرمائیے! عید والے دِن اذان کی آواز آتی ہے کہ نہیں آتی...؟ بالکل آتی ہے، مؤذِّن صاحِب، امام صاحِب اپنی ذِمَّہ داری نبھا رہے ہوتے ہیں، اذانیں دے رہے ہوتے ہیں، جب ہمیں آواز آ رہی ہے، مسجد کھلی ہے تو ہم مسجد میں کیوں نہیں آتے؟ لہٰذا عید والے دِن بھی، آپ جہاں بھی ہوں، اپنی قریبی مسجد میں پہنچ کر لازمی نماز باجماعت ادا فرما لیجیے! دیکھیے نا؛ 5 لاکھ کا جانور خریدا، 5، 10 دِن اس کی خِدْمت کی، چارہ پانی ڈالا، اسے سنبھالنے کے لیے نَوکَر چاکر رکھے، کٹوانے کے لیے قصّاب کی فیس(Fee) بھری، کافِی سارے کام چھوڑے، مَصْرُوفیات بڑھا لِیں، اب عید والے دِن جب قربانی کرنی ہے، محض ڈیڑھ، 2گھنٹے کی محنت (یعنی نمازوں) سے جِی چُرا کر، سُستی دِکھا کر آدمی اپنی ساری محنت کو ضائع کرنے کا سامان کر لے تو یہ کتنا بڑا نقصان ہے۔ میں نہیں، بلکہ قرآنِ کریم کہہ رہا ہے کہ منافق چونکہ نمازوں میں سُستی کرتے تھے، لہٰذا اُن کے صدقات قبول نہ ہوئے۔
اللہ پاک ہمیں نمازوں کی پابندی اور نمازوں کی محبّت نصیب فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
منافقوں کے صدقات قبول نہ ہونے کا تیسرا سبب ارشاد ہوا:
وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ(۵۴) (پارہ:10، سورۂ توبہ:54 )
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور ناگواری سے ہی مال
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami