Share this link via
Personality Websites!
مال وغیرہ تَو کیا، تیری رِضا کی خاطِر اگر مجھ سے جان کی قُربانی بھی مانگی جائے تو ہر گز پیچھے نہیں رہوں گا بلکہ
یہ اِک جان کیا ہے، اگر ہوں کروڑوں تیرے نام پر سب کو وارا کروں میں([1])
پیارے اسلامی بھائیو! بہت ساری باتیں ہیں جو راہِ قبولیّت میں رُکاوٹ بنتی ہیں، ہماری قربانی اور دیگر نیک کام قبول ہو جائیں، اس کے لیے اُن رُکاوٹوں سے بچنا بھی ضروری ہے۔ چند رُکاوٹیں سنیے! قرآنِ کریم میں مُنافقوں سے متعلق اِرْشاد ہوا:
وَ مَا مَنَعَهُمْ اَنْ تُقْبَلَ مِنْهُمْ نَفَقٰتُهُمْ اِلَّاۤ اَنَّهُمْ كَفَرُوْا بِاللّٰهِ وَ بِرَسُوْلِهٖ وَ لَا یَاْتُوْنَ الصَّلٰوةَ اِلَّا وَ هُمْ كُسَالٰى وَ لَا یُنْفِقُوْنَ اِلَّا وَ هُمْ كٰرِهُوْنَ(۵۴) (پارہ:10، سورۂ توبہ:54)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اور ان کے صدقات قبول کیے جانے سے یہ بات مانع ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ کُفْر کیا اور وہ نماز کی طرف سستی و کاہلی سے ہی آتے ہیں اور ناگواری سے ہی مال خرچ کرتے ہیں۔
یعنی مُنَافقوں کے صدقات، راہِ خُدا میں خرچ کی گئی رقم کچھ بھی قبول نہیں ہے، سب مَرْدُود ہے، کیوں؟ 3وجہ سے: (1):یہ اللہ و رسول پر ایمان نہیں رکھتے (2):نمازوں میں سُستی کرتے ہیں (3):جو بھی راہِ خُدا میں خرچ کرتے ہیں، خوش دِلی سے نہیں کرتے۔
(1): اللہ و رسول پر ایمان نہ رکھنا
پیارے اسلامی بھائیو! صدقات اور قربانیاں وغیرہ قبول نہ ہونے کی یہ 3وُجُوہات
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami