Share this link via
Personality Websites!
جماعَت چھوڑتے بلکہ بعض تو نمازیں ہی قضا کر ڈالتے ہیں، اُن کے بہانے ہوتے ہیں کہ *قَصَّاب دیر سے آیا تھا *قُربانی کرتے کرتے جماعت گزر گئی *کپڑوں پر خُون لگا تھا، اس لیے نماز ہی قضا ہو گئی وغیرہ، غرض ہر وہ کام جو گُنَاہ ہے یا جس کی وجہ سے گُنَاہ میں جا پڑنے کا اندیشہ ہے، اُس کام سے بچنا تقویٰ کا تقاضا ہے اور قُربانی میں تقویٰ کے تقاضوں پر عمل کرنا قُربانی کو بارگاہِ اِلٰہی میں قُبُولیت کے لائق بناتا ہے۔
دے حُسْنِ اَخْلاق کی دولت کر دے عطا اِخْلاص کی نعمت
مجھ کو خزانہ دے تقویٰ کا یااللہ! مِری جھولی بھر دے([1])
پیارے اسلامی بھائیو! تقویٰ کے تقاضوں میں سے ہی ہے کہ قُربانی کرنے میں *جذبۂ اِخْلاص بھی ہو *جذبۂ اِیْثَار بھی ہو *اللہ پاک کی رِضا کے لیے تَنْ مَنْ، دَھن لُٹا دینے کا عَزْم بھی ہو *جب جانور کے گلے پر چُھری رکھی جائے تو بندہ محبتِ اِلٰہی سے سرشار ہو *دِل ہی دِل میں اللہ پاک کی بارگاہ میں عرض کر رہا ہو مولیٰ! جانور کی قُربانی کا حکم ہوا، میں تیری رِضا کے لیے جانور قُربان کرتا ہوں *اِلٰہی! نفسانی خواہشات کو قُربان کر کے، تیری رِضا والے کام کرنا بھی تجھے مَحْبوب ہے، مولیٰ! آج سے تیری رِضا کے لیے نَفْسِ اَمَّارہ کو بھی مارتا ہوں، آج کے بعد کبھی نفس و شیطان کے بَہْکاوے میں آکر تیری نافرمانی نہیں کروں گا *اے میرے پاک پروردگار! آج تیرے حکم سے جانور قُربان کر رہا ہوں، تیری رِضا کے لیے، تیرے دِین کی خاطِر وقت کی بھی قُربانی دیا کروں گا *مولیٰ! جب مؤذِّن حَیَّ عَلَی الْفَلَاح پُکارے گا تو نیند کی، اپنی دُکان کی، کاروبار کی، دُنیوی کام کاج کی قربانی دے کر فوراً مسجد میں حاضِر ہو جایا کروں گا *بلکہ اے میرے پیارے اللہ پاک! نفس کی خواہشات، وقت اور
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami