Share this link via
Personality Websites!
جاتے ہیں اور بھی گُنَاہوں کا سلسلہ ہوتا ہے۔
افسوس! یہ ہمارے تقویٰ کا حال ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سب ایک جیسے ہیں، اَلحمدُ لِلّٰہ! ایک سے ایک متقی، پرہیز گار بھی ہمارے معاشرے ہی میں موجود ہیں۔ البتہ! بےاحتیاطیاں کرنے والوں کی بھی بڑی تعداد ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! قرآنِ کریم میں صاف فرما دیا گیا:
اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ(۲۷) (پارہ:6، سورۂ مائدہ:27)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اللہ صرف ڈرنے والوں سے قبول فرماتا ہے۔
یہ آیت ہمیں سبق دے رہی ہے کہ اپنی قربانی کو قبولیت کے لائق بنانے کے لیے تقویٰ کے تقاضوں پر عمل کرنا ضروری ہے، مثلاً *قَصَّاب کے ساتھ مُعَاملہ طَے کرنے میں اِجَارے کے شرعی اُصُول پیشِ نظر رکھیے!*قَصَّاب کی اُجْرَت پُوری پُوری بَروقت دے دیجیے!*قربانی کے جانور باندھنے اور قربانی کرنے کے لیے عوامی راستے بند مت کیجیے! *گلیوں میں خُون یُوں ہی بہتا مت چھوڑئیے! خُون بہہ کر گلی میں چلا بھی جائے تو اسے اچھی طرح دَھو کر راستہ صاف کر دیجیے! *اَوْجَھڑی اور جانور کی آنتیں، پیٹ سے نکلنے والی گندگی وغیرہ یُوں ہی گلی میں نہ ڈالیے!بلکہ میونسپل کمیٹی(Municipal Committee) والوں کی ہدایات پر عمل کیجیے!*غرض قُربانی کرنے میں طہارت اور پاکیزگی، صَفائی سُتھرائی کا پُورا خیال رکھا جائے *اِجْتماعی قُربانی کی صُورت میں گوشت کی تقسیم شرعِی اُصولوں کے عَین مُطابِق کی جائے، کسی کا بھی حق ضائع نہ ہونے دیا جائے *قُربانی کی کھال دینے کا اگر کسی سے وعدہ کیا ہے تو اُسے بار بار چکر نہ لگوائیے! *بعض نادان قُربانی کی آڑ میں مَعَاذَ اللہ!
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami