Share this link via
Personality Websites!
نہیں پہنچیں گی، اُن کا خُوب اہتمام ہوتا ہے؛ *جانور خریدتے وقت دیکھا جاتا ہے کہ اس کا وَزن کتنا ہے؟ *گوشت کتنا نکل آئے گا *اب تَو مُوَیشی منڈی میں ترازُو بھی رکھنے لگے ہیں، باقاعِدَہ جانور تَول کر لیا جاتا ہے *قربانی کرنے کے بعد آپس میں تبصرے بھی ہوتے ہیں؛تمہارے جانور کا کتنا گوشت نکلا؟ ہمارے جانور کا گوشت اتنا نکلا!*گوشت بنانے سے متعلق قصّاب کو نصیحتیں ہوتی ہیں: بوٹیاں چھوٹی چھوٹی اور گول گول بنانا *باورچی خانے میں فرمائشیں کی جاتی ہیں: آج قورمہ بنا لَو!آج بیف پلاؤ بنا لو! *فریج وغیرہ میں گوشت سٹور(Store) کر لیا جاتا ہے *بازاروں میں قیمہ کرنے والی مشینیں بھی لگ جاتی ہیں *قربانی کے دِن آنے سے پہلے ہی مرچ مصالحہ جات خرید لیے جاتے ہیں کہ عید آ رہی ہے، گوشت پکانا ہے *دوست یار مِل کر باربی کیو کی پارٹیاں بھی کرتے ہیں۔
میں یہ نہیں کہہ رہا کہ یہ سب اہتمام کرنا غلط ہے یا گُنَاہ ہے۔ نہیں...!! یہ سب اہتمام بالکل جائِز ہیں، قربانی کا گوشت کھانا چاہیے، پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی سُنّت ہے۔([1]) مگر میں تَوَجُّہ یہ دِلانا چاہ رہا ہوں کہ یہ وہ چیز ہے جس کے متعلق قرآن نے صاف فرما دیا:
لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا (پارہ:17، سورۂ حج:37)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں۔
یعنی وہ چیز جو قبولیت کا معیار نہیں ہے، اس کے لیے تَو ہم اتنے سارے اہتمام کرتے ہیں۔ اب وہ چیز جو قبولیت کا معیار ہے، جس کے متعلق فرمایا گیا:
وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ- (پارہ:17، سورۂ حج:37)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami