Share this link via
Personality Websites!
اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم قربانی بھی کریں، لازمی کریں، ضرور بالضرور کریں ، اس کے ساتھ ساتھ اس کی قبولِیت کی فِکْر میں بھی لگ جائیں۔
اللہ پاک نے فرمایا:
اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللّٰهُ مِنَ الْمُتَّقِیْنَ(۲۷) (پارہ:6، سورۂ مائدہ:27)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اللہ صرف ڈرنے والوں سے قبول فرماتا ہے۔
پتا چلا؛ قربانی کو قبولیت کے لائق بنانے کے لیے تقویٰ اختیار کرنا ضروری ہے۔
یہاں میں ایک بات کی طرف تَوَجُّہ دِلانا چاہوں گا؛ قربانی میں 3چیزیں ہیں: (1):قربانی کا گوشت (2):خُون (3):تقویٰ۔ قرآن کا دستور دیکھیے کیا ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا:
لَنْ یَّنَالَ اللّٰهَ لُحُوْمُهَا وَ لَا دِمَآؤُهَا وَ لٰكِنْ یَّنَالُهُ التَّقْوٰى مِنْكُمْؕ- (پارہ:17، سورۂ حج:37)
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان: اللہ کے ہاں ہرگز نہ ان کے گوشت پہنچتے ہیں اورنہ ان کے خون، البتہ تمہاری طرف سے پرہیزگاری اس کی بارگاہ تک پہنچتی ہے۔
یعنی گوشت تَو وہ ہے جو ہم کچھ بانٹ دیں گے، کچھ پکائیں، کھائیں گے، قربانی کا خُون زمین چُوس جائے گی، ایک تقویٰ ہے جو اللہ پاک کی بارگاہ میں حاضِر ہو کر قبولیّت کا دَرْجہ پائے گا۔
افسوس! اب ہمارے حالات یوں ہو گئے ہیں کہ وہ چیزیں جو اللہ پاک کی بارگاہ میں
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami