Share this link via
Personality Websites!
کرتے اور کہتے:
اَللّٰهُمَّ هَذَا عَنْ اُمَّتِي جَمِيعًامِمَّنْ شَهِدَ لَكَ بِالتَّوْحِيدِ وَشَهِدَ لِي بِالْبَلَاغِ
ترجمہ:اے اللہ پاک! یہ قربانی میرے ہر اُس اُمّتی کی جانِب سے جو تیرے ایک ہونے اور میرے دِین پہنچا دینے کی گواہی دیتا ہے۔
پِھر دوسرا مینڈھا حاضِر کیا جاتا، اسے اپنے ہاتھ مبارَک سے ذَبَح فرما کر کہتے:
اَللّٰهُمَّ هَذَا عَنْ مُحَمَّدٍ وَآلِ بَيْتِهِ
ترجمہ:اے اللہ پاک! یہ قربانی مُحَمَّد اور آلِ مُحَمَّد کی جانب سے ہے۔
پِھر ان دونوں مینڈھوں کا گوشت غریبوں مسکینوں میں تقسیم کر دیا جاتا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم خُود اور آپ کے گھر والے بھی اس سے تناوُل فرماتے۔ ([1])
یہ ناز، یہ انداز ہمارے نہیں ہوتے
سُبْحٰنَ اللہ !پیارے اسلامی بھائیو! پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے اُمّت سے محبّت کے انداز مبارَک دیکھیے! کیسے نِرالے ہیں، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم باقاعِدَہ اہتمام کے ساتھ ہر سال 2خوبصُورت، پیارے پیارے مینڈھے خرید فرماتے اور اُمّت سے پیار دیکھیے! پہلے قربانی اُمّت کے نام کی کرتے، بعد میں اپنی جانِب سے فرمایا کرتے۔ اعلیٰ حضرت کے بھائی جان مولانا حَسَن رضا خان رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کیا خُوب کہتے ہیں:
اس شان کے ہم نے کیا کسی نے دیکھے نہیں زِینہار آقا
ایسا تو کہیں سُنَا نہ دیکھا بندوں کا اُٹھائیں بار آقا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami