Share this link via
Personality Websites!
والا کام ہے،قُربانی کرنا اللہ پاک کے قُرب کا سببہے،قُربانی کرنا سنّت ابراہیمی ہے،قُربانی کرنا سُنَّتِ انبیا ہے اور قربانی کرنا سَیِّدِ انبیا، محبوبِ خُدا، اَحْمد مجتبیٰ، یعنی ہمارے آقا، مُحَمَّد مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی بھی پیاری پیاری سُنَّت ہے۔
ماشآءَ اللہ !ہمارے آقا و مولیٰ، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کو قربانی کرنے میں ایسا لگاؤ تھا کہ ہر سال (Every year)قربانی فرماتے۔ ترمذی شریف میں روایت ہے، حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہ عنہما فرماتے ہیں: پیارے مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم 10 سال مدینۂ پاک میں رہے، آپ ہر سال قربانی فرماتے تھے۔ ([1])
بلکہ آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا قربانی کرنے کا سلسلہ وِصَالِ ظاہِری کے بعد بھی جاری رہا، حضرت مولیٰ علی رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے مجھے وصِیّت فرمائی تھی کہ میں ہر سال آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی جانِب سے 2مینڈھے قربان کرتا رہوں، چنانچہ میں ہر سال آپ کی وصیت پر عمل کرتا ہوں۔([2])
اُمّت کی جانِب سے قربانی فرماتے
پیارے اسلامی بھائیو! قربانی کے تَعَلُّق سے ایک رحمت بھری ادائے مصطفےٰ سنیے! اور جھومئے! حضرت اَبُورَافِع رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، رسولوں کے سردار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم 2موٹے موٹے، سینگوں والے مینڈھے (Rams)خریدتے، عید کے دِن جب عید کی نماز ادا فرما لیتے، خطبہ ارشاد فرمانے کے بعد آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت ایک مینڈھا حاضِر کیا جاتا، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم اسے اپنے ہاتھوں سے ذبح
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami