Share this link via
Personality Websites!
یعنی عام دِنوں میں نیکی کی جائےوہ بھی اللہ پاک کو بڑی پیاری ہےلیکن عشرۂ ذِی الحج (یعنی ذُوالحج کے ابتدائی 10 دِنوں میں ) نیکی کرنا اللہ پاک کے ہاں بہت زیادہ مَحْبُوب ہے۔
*ایک روایت میں ہے: وَالْعَمَلُ فِيهِنَّ يُضَاعَفُ سَبْعُ مِئَةِ ضِعْفٍ ان 10 دنوں میں نیکی کا ثواب700 گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔([1])
* ترمذی شریف کی روایت میں ہے: مکی مدنی، مُحَمَّدعربی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نےفرمایا: مَا مِنْ اَ يَّامٍ اَحَبُّ اِلَى اللَّهِ اَنْ يُتَعَبَّدَ لَهُ فِيهَا مِنْ عَشْرِ ذِي الحِجَّةِیعنی عشرۂ ذِی الحج میں عبادت کرنا اللہ پاک کے ہاں عام دنوں کی نسبت زیادہ مَحْبُوب ہے يَعْدِلُ صِيَامُ كُلِّ يَوْمٍ مِّنْهَا بِصِيَامِ سَنَةٍان دنوں میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے وَقِيَامُ كُلِّ لَيْلَةٍ مِّنْهَا بِقِيَامِ لَيْلَةِ القَدْرِاور ان دنوں کی ہر رات کا قیام (یعنی جاگ کر عبادت کرنا) شبِ قدر کے قیام کے برابر ہے۔ ([2])
سُبْحٰنَ اللہ !اے عاشقانِ رسول! یہ 10 دِن گویا نیکیوں کا موسمِ بہار ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم ان اَیَّام کو غنیمت جانیں، خوب نیکیاں کریں، فرض نماز تو پڑھنی ہی پڑھنی ہے* نوافل بھی پڑھیں*نفل عبادت کریں*تلاوت کریں*ذِکْرُ اللہ کریں بلکہ حق تو یہ ہے کہ راتوں کو جاگ کر عبادت کی جائے کہ رات کی عبادت پسندیدہ ہے۔
پیارے آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نفل روزے رکھتے
پیارے اسلامی بھائیو! مسلمانوں کی اَمّی جان،حضرت حفصہ رَضِیَ اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسولِ اکرم،نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم عشرۂ ذِی الحج میں پابندی کے ساتھ نفل روزے
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami